ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 64 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 64

64 ہو تو وہ اس ٹکڑے پر تھوڑا سا اختیار رکھتا ہے تو مالک کے اندر یہ تمام اختیارات آجاتے ہیں جن میں بادشاہ کو دخل دینے کا کوئی حق ہی نہیں پہنچتا اور اگر وہ چاہے بھی تو ہر ایک کے اختیار چھین نہیں سکتا تو مالک ایسے عظیم وجود کو کہتے ہیں جو ہر چیز کا حقیقی مالک ہے چھوٹی ہو یا بڑی ہو اور مالک کے اندر بعض ایسی باتیں ہیں یعنی بادشاہ کے اختیارات میں جو مالکیت کے دوسرے اختیارات میں نہیں ہوا کرتیں۔بادشاہ قانون بنا دیتا ہے۔بادشاہ جب چاہے کسی کو DISPOSSESS کر دیتا ہے اس کے اختیارات وقتی طور پر چھین لیتا ہے، سوائے اس کے کہ وہ چھوٹی چھوٹی باتیں جن پر انسان کا اختیار رہتا ہی ہے وہ چھین نہیں سکتا وہ اس کو اس کی ہر چیز سے POSSESSION سے محروم کر سکتا ہے لیکن اس کے خیالات کے قبضے سے محروم نہیں کر سکتا۔پس خدا جب مالک بنتا ہے تو ہر چیز کا مالک بن جاتا ہے وہ بندے کے خیالات کا بھی مالک بن جاتا ہے اور جب چاہے ان کو بھی تبدیل فرما سکتا ہے۔وہ ہر ذی شعور کے شعور کا مالک بن جاتا ہے اور جب وہ بادشاہ بنتا ہے تو جس سے چاہے جس کو چاہے محروم کردے۔یہ مضمون قرآن کریم نے مختلف سورتوں میں مختلف آیات میں بیان فرمائے ہیں۔جیسا کہ فرمایا : اللهم مُلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاء وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ (سورۂ آل عمران : آیت ۲۷) یہاں مالک کا معنی صرف کسی چیز پر قبضہ کرنے والا نہیں بلکہ یہاں ملوکیت کے معنی اور بادشاہت کے معنی بھی اس میں داخل فرما دئے جیسا کہ میں بیان کر رہا ہوں۔اللَّهُمَّ مُلِكَ الْمُلْكِ اے خدا تو ملک کا بھی مالک ہے۔یعنی صرف چیزوں کا مالک نہیں، بادشاہتوں کا اور مضامین کا بھی مالک ہے۔کوئی مضمون ایسا نہیں جس کا تو مالک نہ ہو اور بادشاہت بھی ایک مضمون ہے جو تیرے قبضہ قدرت میں ہے تُونِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَنْزِمُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ تو جس کو چاہتا ہے ملک عطاء فرما دیتا ہے جس سے چاہتا ہے ملک چھین لیتا ہے۔تو ہر چیز پر قادر ہے۔یہ مالک کی تعریف ہے۔تُولِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ مِنَا وَتُخْرِجُ الْمَيْتَ مِنَ الْحَي و