ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 63 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 63

پہنچتی بھی ہے کہ نہیں یا رحیمیت کو میں واقعی قابل تعریف سمجھتا ہوں اور اگر سمجھتا ہوں تو پھر میں خود کیوں رحیم بننے کی کوشش نہیں کرتا۔پس جہاں جہاں اس کے اس سوال کے جواب میں ایک منفی تصویر ابھرتی ہے یا بے رنگ تصویر ابھرتی ہے وہیں وہیں اس كا ايات لنڈ کہتا اثر سے خالی ہوتا چلا جاتا ہے۔جہاں منفی تصویر ابھرتی ہے اس کا مضمون بعد میں بیان ہوگا کہ پھر اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔مالک کا صحیح مفہوم آگے بڑھیں تو ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ تک آپ پہنچ جاتے ہیں۔مالک میں خدا تعالیٰ کی نہ صرف ملکیت کی صفت بیان ہے بلکہ ملوکیت کی صفت بھی بیان ہے یعنی مالک کے اندر سب چیزیں داخل ہو جاتی ہیں لیکن جب یوم الدین کے ساتھ ملت کی اضافت ہو تو ملک یوم الدین کا مطلب یہ ہے کہ ایسا مالک جس کے قبضہ قدرت میں تمام انجام ہیں۔کوئی چیز اس سے بھاگ کر باہر نکل ہی نہیں سکتی۔ساری عمر کوئی شخص محنت کرے اور وہ سمجھے کہ میری اس کوشش میں کسی اور نے کوئی دخل نہیں دیا اور میں کامیاب ہو گیا لیکن اس محنت کا پھل گھر پہنچتے تک بھی اگر مالک یہ فیصلہ کر لے کہ اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا تو وہ فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔اگر گھر میں پہنچ بھی جائے اور وہ بظاہر سمجھے کہ میں اپنے محنت کے پھل پر قابو پا چکا ہوں یہ میرا ہو چکا ہے اگر مالک یہ سمجھے کہ اس سے اس محنت کرنے والے کو فائدہ نہیں پہنچنا چاہئیے تو وہ محنت کرنے والا خود دنیا سے اٹھ سکتا ہے یا اور کوئی ایسی بلا اس پر نازل ہو سکتی ہے کہ گھر میں پھل موجود ہے لیکن محنت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا تو مالک ایک ایسے کامل صاحب اختیار وجود کا تصور پیدا کرتا ہے جس کے قبضہ قدرت میں ہر چیز ہے جو سیاست کا بھی بادشاہ ہے جو ملکیت کا بھی بادشاہ ہے اور ملوکیت کا بھی یعنی وہ تمام اختیارات بھی رکھتا ہے جو ایک مالک اپنی کسی چیز پر رکھتا ہے خواہ وہ بادشاہ ہو یا نہ ہو۔ایک چھوٹے سے چھوٹا غریب آدمی بھی کچھ نہ کچھ اختیار رکھتا ہے۔ایک روٹی کا ٹکڑا بھی اگر اس کو بھیک کے طور پر ملا