ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 62 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 62

62 ہے۔کسی یتیم کے اموال ہضم کرنے لگ جاتا ہے۔کسی کمزور پر ظلم اور زیادتی کرتا ہے تو یہ راوبیت کی منفی علامات ہیں۔اب ایسا شخص جب نماز میں الْحَمْدُ للهِ رَبِّ العلمين کہتا ہے تو حقیقت میں آسمان سے یہ آواز کیا بن کر اس پر پٹی ہے، یہ سوال ہے۔کیا وہ رحمت کے پھول بن کر اس پر برسے گی جیسا کہ آگے رحمان کا ذکر چلا ہے یا بر عکس شکل اختیار کرے گی۔امر واقعہ یہ ہے کہ اگر انسان کا اپنا عمل ربوبیت سے منفی ہو گا تو یہ آواز کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ہمیشہ اس پر لعنت بن کر گرے گی اور از خود یہ آواز اس پر رحمت کے پھول برسانے کا موجب نہیں بنے گی۔ربوبیت کے بعد اپنے اندر رحمانیت کی شان پیدا کریں پس یہ مضمون بہت ہی وسیع اور گہرا ہے اور اس مضمون کو آپ آگے بڑھائیں اور رحمانیت سے تعلق جوڑیں تو ارشات تعمد دوبارہ کہیں اور پھر سوچیں کہ رحمان خدا نے آپ کے لئے کیا کیا کچھ پیدا کیا ہے۔رحمان کا تصور قائم ہی نہیں ہو سکتا جب تک عدل کا تصور نہ ہو کیونکہ رحمان عدل سے بالا ہے اور اوپر ہے۔بالا ان معنوں میں نہیں کہ بے نیاز بلکہ عدل کے قیام کے بعد رحمانیت کا مضمون شروع ہوتا ہے۔پس جو مختص عدل پر ہی قائم نہیں وہ یہ کیسے کہہ سکتا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ : الرَّحْمنِ الرَّحِيم رحمان تو ضرورت سے بڑھ کر دینے والا حق سے بڑھ کر دینے والا بن مانگے دینے والا۔پس یہاں تعلقات کے دائرے ربوبیت کی بالا شان دکھانے لگتے ہیں۔ربوبیت کا مضمون زیادہ ارتقائی صورت میں انسانی ذہن پر ابھرتا ہے اور اس کے اعمال پر جلوہ گر ہوتا ہے۔پس جب ایاک نعبد کہتے ہیں تو یہاں "ک" سے مراد اللہ تو ہے ہی کہ اے خدا تجھ سے ، مگر خدا کی کس شان سے تعلق باندھا جا رہا ہے۔ربوبیت کا مضمون ایک تعلق پیدا کرے گا تو رحمانیت کا مضمون ایک دوسرا تعلق پیدا کرے گا۔پھر رحیمیت کا مضمون ہے جس میں محنت کا پورا پورا جبر بلکہ محنت سے کچھ پڑھ کر اجر دینے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ایک انسان اپنے تعلقات کے دائرے میں بڑی آسانی کے ساتھ اپنے آپ کو پرکھ سکتا ہے کہ کیا میں جب کہتا ہوں الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ - الرَّحْمن الرحيم۔تو رحیم تک میری حمد کی آواز۔