ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 497 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 497

497 - سبحان ربي الأعلى - سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى کی تکرار کرتے ہیں۔عظیم اور اعلیٰ میں کیا فرق ہے۔عظیم تو ساری کائنات پر محیط ہے اور عظیم میں آپ سے دوری نہیں آپ سے قرب کا مضمون ہے۔قرب ان معنوں میں کہ آپ اس کی عظمت کے قریب آگئے ہیں۔قریب سے آپ نے جلوہ دیکھا ہے اور اس جلوے سے مرعوب ہو گئے ہیں لیکن علو کے مضمون میں ایسی بلندی ہے کہ آپ محسوس کرتے ہیں کہ قریب آنے کے باوجود آپ اس کے ہمسر نہیں بن سکتے۔وہ بہت بلند تر ہے اور جتنا آپ اس کے قریب جاتے ہیں اتنا ہی اسکی بلندی کا احساس بڑھتا چلا جاتا ہے۔یہ مضمون بھی حقیقت میں کوہ ہمالہ کے قرب سے بھی معلوم ہو جاتا ہے اور بلند عمارتوں کے تعلق میں بھی معلوم ہو جاتا ہے۔آپ نے سنا ہوا ہے کہ آنفل ٹاور اتنا اونچا ہے۔ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ اتنی اونچی ہے۔ٹورنٹو کا CN ٹاور اتنا اونچا ہے دور سے دیکھیں تو اونچے تو ہیں مگر کوئی خاص اثر دل پر نہیں پڑتا لیکن جب آپ قریب جاتے ہیں۔ان کے دامن میں کھڑے ہو جاتے ہیں تب آپ کو ان کی بلندی کا احساس ہوتا ہے لیکن بعض ایسی بلندیاں ہیں جن کی بنیادیں آپ سے شروع نہیں ہوتی بلکہ وہ بلند تر ہیں۔مثلاً سماوات کی بلندیاں ہیں۔وہ آپ کی پہنچ سے بالا ہیں۔فرعون نے ایک دفعہ یہ کوشش کی اور قرآن کریم نے اس کا ذکر فرمایا ہے کہ ایسی بلند عمارت بناؤں جس پر چڑھ کر میں خدا کی بلندی کا خود نظارہ تو کروں کہ اگر خدا ہے تو کتنا اونچا ہے اور کہاں ہے۔یہ اسکی ذہنی پستی کا معراج ہے لیکن اس نے ہمیں ایک سبق دیا اور وہ سبق یہ دیا کہ علو کا مضمون ایسا ہے جس کی بنیادیں آپ کے پاس نہیں ہیں۔وہ بلند تر مقام پر ہے۔جس طرح غالب نے کہا ہے نہ منزل اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے عرش سے پرے ہوتا کاش کہ مکاں اپنا خدا کی بلندی کے تصور کیلئے خود گرنا اور نفس کو مٹانا پس خدا کی بلندی کیلئے عرش سے پرے کے تصورات کی ضرورت ہے اور اس بلندی تک پہنچنے کے لئے فرعونیت نہیں جو جسمانی بلندی کا تقاضا کرتی ہے بلکہ عبودیت