ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 498
498 چاہیے جو کرنے اور اپنے نفس کو مٹادینے کا تقاضا کرتی ہے۔چنانچہ انتہائی انکسار کی حالت میں سب سے زیادہ بلند مضمون سکھایا گیا۔وہ انسان جو اپنا سر خدا کے حضور زمین سے رگڑ دیتا ہے، اپنی پیشانی زمین پر ٹکا دیتا ہے، ایسی حالت میں پہنچ جاتا ہے کہ بعض وقعہ مغربی دنیا کے لوگ جو ان باتوں کو نہیں سمجھتے جب مسلمانوں کو سجدے کی حالت میں دیکھتے ہیں تو وہ تمسخر اڑاتے ہیں کہتے ہیں کیسے بے وقوف لوگ ہیں خدا نے اشرف المخلوقات بنایا اور سیدھا چلنے والا جانور بنایا لیکن اب یہ زمین پر ماتھے رگڑ رہے ہیں۔ان بے وقوفوں کو علم نہیں ہے کہ ساری بلندیوں کا راز اس بات میں ہے کہ جو سب سے اعلیٰ ہے اس کے سامنے سب سے زیادہ نیچے ہو جاؤ۔اس تک پہنچنے کا زینہ سب سے زیادہ نیچے جھکنے سے ملتا ہے۔اوپر بلند ہونے سے نہیں ملا کرتا۔پس سُبحان ربي الاعلیٰ اس حالت میں کہتے ہیں جب آپ نے اپنے آپ کو کلیتہ ” خدا کے سامنے ا عاجز اور نابود کر دیا۔انتہائی ذلتیں قبول کر لیں۔کچھ بھی اپنا باقی نہ چھوڑا۔جس خدا نے آپ کو سیدھا چلنے والا بنایا تھا آپ اس کے سامنے اس طرح ہو گئے جس طرح دنیا کا ایک عام کیڑا ہوتا ہے۔جس کو اٹھنا نہیں آتا۔ایسی حالت میں آپ یہ دعا کرتے ہیں سبحان ربي الا علی پاک ہے میرا رب جو بلند تر ہے ہر چیز سے بلند تر ہے۔وہ خدا ہے جو پھر آپ کو علو عطا کرتا ہے اور آپ یہ حق رکھتے ہیں کہ میرا رب اعلیٰ ہے کہہ سکیں اور جب آپ یہ کہتے ہیں کہ میرا رب سب سے بلند ہے۔میرا رب اعلیٰ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے اندر بھی وہ علو پیدا ہوگی جو آپ کے رب میں ہے ورنہ وہ آپ کا رب کیسے ہو گیا۔جو آپ کا ہو اس کی کچھ باتیں آپ میں پائی جاتی ہیں اس کا کچھ فیض آپ کے وجود میں نظر آنا چاہیے۔نہیں ہر وہ شخص جو رب العظیم کی تکرار سے گزرتا ہے اور بچے دل سے گزرتا ہے اس میں عظمتوں کے نشان پیدا ہونے چاہیں۔ہر وہ شخص جو بار بار خدا کے حضور انتہائی تفرع کے ساتھ سبحان ربی الاعلیٰ کہتا ہے اگر وہ رب واقعی اس کا ہے تو اس کے اندر علو مرتبت کے نشان پیدا ہونے چاہئیں تب وہ خدا کا سفیر بنگر دنیا میں نکل سکتا ہے۔تب اس کو دیکھ کر دنیا خدا کی عظمتوں کو محسوس کرتی ہے۔تب اس کو دیکھ کر دنیا خدا کے علو کو محسوس کرتی ہے تبھی حضرت مسیح