ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 496 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 496

496 یباً پاک ہے۔اس میں نفس کی کوئی ملونی شامل نہیں ہے۔وہ تیری خاطر ہے اپنی بڑائی کی خاطر نہیں۔مُبار کا نیا اس میں بہت سی برکتیں ہیں۔کی حمد ہمیشہ بڑھتی رہتی ہے سوال یہ ہے کہ حمد میں برکتوں سے کیا مراد ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جو حمد واقعی کچی ہو اس میں سے نئی محمد پھوٹتی رہتی ہے اور وہ ہمیشہ بڑھتی چلی جاتی ہے۔ایک ایسا محبوب جس کی خوبیاں آپ کے ابتدائی تعارف سے زیادہ گہری ہوں جب آپ اس کے قریب جاتے ہیں اور اس کی تعریف کرتے ہیں تو اس کے اندر مزید حسن پاتے ہیں۔اس کے اندر مزید گہرائی پاتے ہیں یہاں تک کہ آپ ہر دفعہ جب اس کے حضور اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں تو پہلے سے بڑھ کر محبت لیکر لوٹتے ہیں۔تھک کر واپس نہیں آتے۔وہ لوگ جن کے محبوب کھو کھلے ہوں اور سطحی ہوں انکی محبتیں بہت جلد ختم ہو جاتی ہیں۔زیادہ لمبا عرصہ نہیں چلا کرتیں کیونکہ ان کے محبوبوں میں گہرائی نہیں پائی جاتی۔ان کے حسن میں گہرائی نہیں پائی جاتی اس لئے وہ حمد برکت سے خالی رہتی ہے۔پس خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ مضمون سمجھایا کہ تمہاری کچی حمد وہی ہے جو برکتوں والی حمد ہو جس میں ہمیشہ نشود نما ہوتی رہے جو بڑھتی چلے اور تمہیں نئے سے نئے حمد کے مضمون سوجھتے چلے جائیں اور حقیقت یہ ہے کہ خدا کے سوا کوئی ایسا وجود نہیں جس کی حمدان معنوں میں برکتوں والی حمد ہو کہ اس کی برکتیں نہ ختم ہونے والی ہوں۔خدا تعالیٰ کی ہستی پر جتنا آپ غور کریں گے۔اس کی صفات پر جتنا غور کریں گے۔اس کے ماضی کے احسانات پر جتنا غور کریں گے۔اس کے حال کے احسانات پر جتنا غور کریں گے۔مستقبل میں اس سے جو کچھ چاہیں گے۔ان سب مضامین کا عرصہ بہت ہی دراز ہے اور بہت ہی وسیع ہے اور حمد جس حصے سے تعلق رکھنے والی بھی ہو گی اگر آپ بچے غور کی عادت ڈالیں اور دل ڈال کر حمد کرنے والے ہوں تو اس حصے میں وہ برکتوں والی حمد ہوگی۔عظیم اور اعلیٰ میں فرق اس کے بعد پھر اللہ اکبر ہے اور وہاں آپ سجدے میں سُبحان ربی الاعلیٰ