ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 474
474 پیش کی جاچکی ہیں کہ عین اس وقت جبکہ خدا کا فیصلہ آجائے اس وقت کی دعا قبول نہیں ہوا کرتی۔اس سے پہلے فرعون کی دعا کی مثال بھی گزری ہے لیکن اس میں خدا تعالٰی نے خود استثناء فرمایا ہے کہ جزوی طور پر میں تیری بات مانوں گا لیکن مکمل طور پر نہیں مانی جائے گی۔اکثر دعائیں تو وہ بیان کی گئیں ہیں جو قیامت کے دن جہنم کے سامنے پیش کرتے ہوئے یا جہنم کے اندر ظالموں کی التجائیں ہیں اور ان سب کے رد ہونے کا ذکر ا ہے۔کچھ دعائیں وہ ہیں جو موت کا منہ دیکھ کر یا عذاب کا منہ دیکھ کر کی جاتی ہیں ان کے بھی اکثر رد ہونے کا ذکر ہے۔سوال یہ ہے کہ ان کی دعائیں صرف دو تین مضمونوں پر کیوں مشتمل ہیں۔وجہ یہ ہے کہ مومن کو تو ایسے دور میں ابتلاؤں کی ایک لمبی زندگی ملتی ہے جبکہ دعائیں قبول ہو سکتی ہیں، وہ دعائیں کرتا ہے اور دعائیں مقبول ہوتی ہیں اور اس کے بے شمار نمونے ہیں جو اس کی زندگی کے مختلف حالات پر چسپاں ہوتے ہیں۔لیکن کافر کی دعائیں ہوتی اس وقت کی ہیں جبکہ آخری وقت آپہنچا ہو۔اس لئے صرف نجات کی چند دعائیں یا عذاب سے بچنے کی دعا کے سوا آپ کو کوئی دعا نظر نہیں آئے گی۔ان کو دعا کا شعور نہیں ہوتا۔اس لئے دعا کے بہت تھوڑے نمونے ہیں جو قرآن کریم نے ہمارے سامنے رکھے ہیں لیکن ان پر بھی جب غور کریں تو ان سے ہمیں بہت سی نصیحت ملتی ہے۔یہاں ایک عجیب بات یہ ہے کہ یہ ذکر فرمایا کہ جب وہ عذاب کا منہ دیکھیں گے تو بچنے کے لئے دعا کریں گے لیکن جو جواب اللہ تعالی نے دیا ہے اس کا بظاہر اس دعا سے تعلق نہیں ہے۔فرمایا : اولمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُمْ مِّن قَبْلُ مَا لَكُمْ تين زوال تم وہی لوگ نہیں ہو جو اس سے پہلے قسمیں کھایا کرتے تھے کہ تم پر کبھی زوال نہیں آئے گا؟ وہ تو یہ دعا کر رہے ہیں کہ اے خدا!! ہمیں بچا لے۔ہم تو بہ کریں گے۔ہم سے عذاب ٹال دے تاکہ ہم دوبارہ موقعہ پائیں کہ تیرے رسولوں کی پیروی کریں اور تجھ پر ایمان لائیں لیکن جواب یہ دیا جا رہا ہے کہ کیا اس سے پہلے تم ہی لوگ یہ تمہیں نہیں کھایا کرتے تھے کہ ہمیں کوئی زوال نہیں آئے گا۔اصل بات یہ ہے کہ یہاں ان کافروں کا ذکر ہے جو زمین میں تکبر کرتے ہوئے خدا کی جگہ لینے کی کوشش کرتے ہیں اور خدا کے بھیجے ہوؤں کو ایسے چیلنج کرتے ہیں کہ