ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 475 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 475

475 جن کے نتیجے میں گویا خدائی کے اختیارات ان کو مل چکے ہیں اور کھلے کھلے چیلنچ کرتے ہیں کو جو کچھ کرنا ہے کر لو۔جو عذاب لا سکتے ہو لے آؤ۔ہم پر کبھی کوئی زوال نہیں آئے گا۔ہمیں ہمیشگی کی بادشاہت عطا ہوتی ہے۔ہماری طاقت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔تو یہ ساری کہانی ہے جو اس قسم کے اندر بیان فرما دی گئی ہے۔تم یہ کہا کرتے تھے اور قسمیں کھایا کرتے تھے کہ تمہیں زوال نہیں آئے گا۔کن معنوں میں زوال نہیں آئے گا؟ جب وہ انبیاء سے کر لیتے تھے تو ان کو وہ کہا کرتے تھے کہ جو کرنا ہے کر گزرو۔جو دعائیں کرتی ہیں کرو۔کوئی دنیا میں ایسی طاقت نہیں۔کوئی آسمان پر ایسی طاقت نہیں جو ہماری ترقیوں کو تنزل میں بدل دے۔فرمایا کہ جن کے تکبیر کا یہ حال تھا وہ جب عذاب کو سامنے دیکھتے ہیں اور اس زوال کو دیکھتے ہیں جس کے متعلق وہ انکار کیا کرتے تھے تو اس وقت ان کی دعا کے قبول ہونے کا کوئی وقت نہیں رہتا۔وَسَكَنْتُمْ فِي مَسْكِين الَّذِينَ ظَلَمُوا انْفُسَهُمْ یہاں ہر جگہ جہاں کافر کی یا ظالم کی دعا بیان ہوئی ہے اس کے رد ہونے کے دلائل بھی بیان فرما دیئے گئے ہیں۔فرمایا : تم تو ایسے لوگ ہو جو تم نے کبھی نصیحت پکڑی ہی نہیں۔اب عذاب کو دیکھ کر کیسے نصیحت حاصل کرو گے۔اس سے پہلے تم جیسے لوگوں پر عذاب نہیں آئے تھے؟ کیا انہی کے گھروں میں تم بے نہیں رہے؟ کیا تم نے تاریخ سے یہ سبق نہیں سیکھے کہ تم جیسے کام کرنے والے تم سے پہلے ہلاک کر دئیے گئے۔پس اگر عذاب سے تم نے نصیحت پکڑتی ہے تو پہلوں کے عذاب سے کیوں نصیحت نہ پکڑی۔وہ بھی تو تم جیسے ہی تھے۔تمہارے جیسے کاموں کے نتیجے میں وہ اپنے بد انجام کو پہنچے۔پس تمہارے سامنے ان کا ماضی ہے اور اب تم اس ماضی کو بھلا کر نظر انداز کرنے کے بعد جب اس کو مستقبل کے طور پر اپنے سامنے دیکھ رہے ہو تو ہمیں کہتے ہو کہ ہمیں واپس کردو۔ہم نصیحت پکڑیں گے۔یہ فطرت کے خلاف بات ہے جسے نصیحت پکڑنی ہو وہ دوسرے کے بد حال کو دیکھ کر اپنے لئے نصیحت کا رستہ اختیار کرتا ہے اور نیکی کا رستہ اختیار کرتا ہے۔جب اپنے اوپر آپڑے تو پھر بچنے کا کوئی سوال نہیں رہا کرتا۔وَقَد مَكَرُوا مَكْرَهُمْ وَعِنْدَ اللَّهِ مَكْرُهُمْ پھر وہ بھی تمہاری طرح بہت فکر کرنے والے تھے اور خدا کے پاس انکا مکر ہے “ اس کا اور