ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 472
472 گواہی کھڑی ہو اور بجائے اس کے کہ وہ لاش عبرت کا نشان ہے نَعُوذُ بِاللَّهِ مِن ذيك قرآن کریم پر شک ڈالنے کا ایک نشان بن جائے ایک یہ پہلو ہے۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ قرآن کریم کے معانی پر غور کر کے اس کی خاص طرز کلام کو سمجھتے ہوئے ایسے معنی کئے جائیں جو بجائے اس کے کہ حقائق سے متضاد دکھائی دیں حقائق کو اس رنگ میں پیش کریں کہ غیر معمولی طور پر خدا تعالیٰ کی شان ان سے ظاہر ہو اور وہ لاش واقعہ " عبرت کا نشان بن جائے۔میرا رجحان لازماً اس طرف ہے اور میرے نزدیک غرق ہونے اور غرق ہونے کے بعد بچائے جانے میں کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ عام انسانی تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ با رہا ڈوبے ہوؤں کو بچالیا گیا ہے۔خاص طور پر فرعون کے ارد گرد جو اس کا محافظ عملہ تھا اور خاص طور پر وہ دریائے نیل کے کنارے بسنے والے لوگ تھے اور ان میں بڑے بڑے پیراک تھے، بہت ماہر غوطہ خور موجود تھے ان لوگوں کا اپنے بادشاہ کو بچانے کی کوشش نہ کرنا بعید از ضم ہے۔اس لئے ہر گز بعید نہیں بلکہ میرے نزدیک واقعتہ " یہی ہوا کہ فرعون کے ڈوبنے کے بعد اس کے ساتھیوں نے غوطہ خوری کے ذریعے جو بھی انہوں نے کوشش کی اس کی لاش کو نکالا اور چونکہ خدا تعالیٰ نے وعدہ کر لیا تھا کہ میں تیرے بدن کو نجات بخش دوں گا اس لئے وہ بدن زندہ رہا اور ایک لمبے عرصے تک اس بدن کے ساتھ وہ چلتا پھرتا حکومت کرتا ہوا دکھائی دیا لیکن اس کی روح کو نجات نہیں بخشی گئی گویا زندگی میں ہی اس کی موت کا فیصلہ کر دیا گیا تھا اور یہ ایک ایسا قطعی فیصلہ تھا جو باقی سب سے اس کو جدا کرتا ہے۔باقی لوگوں کے لئے آخر دم تک توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔اس سے زیادہ اور کوئی کیا عبرت کا نشان ہو سکتا ہے کہ ایک لمبی زندگی اور بادشاہت کی اور فخر کی زندگی اس کے سامنے پڑی ہو اور اس کو معین طور پر خبر دی گئی ہو کہ تم پر ہر قسم کی توبہ کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔اب تم ایک ظاہری زندگی بسر کرو گے لیکن اس میں کوئی روحانیت نہیں ہوگی تو یہ ساری باتیں میرے ذہن میں تھیں اور ہیں اور اس کے باوجود میرا رجحان اس طرف ہے کہ قرآن کریم نے جو وعدہ کیا تھا وہ بدنی زندگی کا وعدہ تھا، محض بدن کو عبرت کا نشان بنانے کا وعدہ نہیں تھا۔