ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 471 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 471

471 نجات کا وعدہ کر لیا تو کیا ان دونوں کے درمیان تضاد ہے یا کوئی تطبیق کی صورت ممکن ہے۔عرق کا لفظ جب میں نے ڈکشنری میں دیکھا تو معلوم ہوا کہ ہر جگہ جس کو ہم اردو میں ڈوبنا کہتے ہیں بالکل وہی مفہوم عربی میں غرق کا پایا جاتا ہے۔کوئی شخص تیرنے کی کوشش کرتا ہو بچنے کی کوشش کرتا ہو لیکن ہار جائے اور پانی کے اندر ڈوب جائے۔ڈوب مرنے کا معنی غرق کا میں نے کہیں نہیں دیکھا۔اس لئے ان دونوں میں میرے نزدیک تضاد کوئی نہیں۔جس طرح خدا تعالیٰ نے مچھلی کے پیٹ سے بھی ایک نبی کو زندہ بچالیا تھا جہاں اس کے بچنے کے امکان ایک عام ڈوبے ہوئے آدمی کے بچنے کے مقابل پر بہت کم تھے۔بارہا ہم نے دیکھا ہے کہ ایک شخص ڈوب جاتا ہے اور ڈوبے ہوئے کو ایسی حالت میں نکال لیا جاتا ہے کہ ابھی اس نے دم نہیں توڑا اور پھر کوشش کر کے اس کو بچا لیا جاتا ہے۔پس خدا تعالیٰ جہاں غرق کا لفظ استعمال فرماتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ فرعون ضرور ڈوبا ہے اور اپنے لشکر کے ساتھ ڈوبا ہے اور جہاں تک فرماتا ہے کہ ہم تیرے بدن کو نجات بخشیں گے اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ڈوبے ہوئے کے لئے ظاہری زندگی کے بچانے کا انتظام ممکن ہے اور خدا تعالیٰ نے ایسا انتظام ضرور کیا ہوگا کیونکہ اس وعدے کا خصوصیت کے ساتھ یہاں ذکر کرنا ایک گہرا پیغام رکھتا ہے اور وہ پیغام اس وقت تو لوگوں کو سمجھ نہیں آرہا تھا اب کی دنیا میں ہمیں سمجھ آیا جبکہ ہم نے فرعون کی لاش کو بچا ہوا اور میں ہوئی ہوئی حالت میں دیکھا لیکن جب میں نے مزید تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ وہ فرعون جس نے موسیٰ سے ٹکر لی اور جس کے متعلق یہ آتا ہے کہ ہم نے اس کو غرق کیا وہ فرعون ۹۰ سال کی عمر میں طبعی موت مرا ہے اور اس کی می اور اس کے سارے کاغذات جو ساتھ ہیں اور تمام تحریریں یہ بتا رہی ہیں کہ وہ نو عمری میں غرق ہونے کی حالت میں نہیں مرا تھا بلکہ لمبی عمر پا کر اس کے بعد اس نے کئی لڑائیاں بھی کی ہیں، ان لڑائیوں کے بعد ایک جگہ فلسطینیوں کے ہاتھوں بڑی بھاری شکست بھی کھانے لگا تھا، جس کو بعد میں دوبارہ ایک قسم کی فتح میں تبدیل کیا گیا لیکن ایک موقع پر تو بہر حال بہت ذلت ناک شکست بھی اس نے کھائی۔سوال یہ ہے کہ کیا قرآن کریم کا ایسا ترجمہ کیا جائے گا جس کے مقابل پر تاریخی