ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 460
460 گار کی فطرت کا اظہار ہے۔ایک مومن تو یہ دعا کرتا ہے کہ اے خدا بخش دے۔معاف کر دے اور جو شیطان صفت لوگ ہیں ان کو مزا اور ہی طرح آتا ہے۔ان کو اگر اپنی بخشش میں مزا نہیں تو دوسرے کے زیادہ عذاب میں مزا ہے۔اپنی دنیا کی زندگیوں میں بھی ان کا یہی طریقہ ہوا کرتا تھا کہ کسی کے دکھ کو دیکھ کر ان کو سکون ملتا تھا۔تو جہنم میں جا کر بھی ان کا مزاج نہیں بدلے گا۔وہ یہ نہیں کہیں گے کہ اے خدا ان بد بختوں نے ہمیں گمراہ کیا اس لئے ہمیں معاف کر ہم سے رحم کا سلوک فرما۔وہ کہیں گے اچھا پھر ان کے دوہرے عذاب کا مزا ہمیں چکھا۔اللہ تعالٰی اس کے جواب میں فرمائے گا۔رہیں ضِعف دیکھو دونوں کے لئے دوہرا ہی عذاب ہے۔ولكن لا تَعْلَمُونَ لیکن تم اس بات کو سمجھتے نہیں۔دونوں کے لئے دوہرا عذاب کیوں ہے۔ایک دوسرے کے لئے گمراہی کا موجب بنا اور ایک نے گمراہی اختیار کی۔سوال یہ ہے کہ اس کا یہ جواب کیوں دیا گیا کہ دونوں کے لئے دو ہرا عذاب ہے لیکن تم نہیں جانتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو کسی کی پیروی کرتے ہوئے ایک برا نمونہ پیش کرتا ہے وہ محض کسی برے نمونے کے پیچھے چلنے والا نہیں بلکہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے خود بھی وہ ٹھوکر کا سامان بن جاتا ہے۔تو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہم نے ان کی پیروی کی اس لئے ان کو دوہرا عذاب دیا جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم تو پیروی کر کے اب میرے حضور حاضر ہو گئے۔لیکن تم نہیں جانتے کہ تم نے کتنے بد نمونے پیچھے چھوڑے ہیں۔اور کتنی آنے والی نسلوں کی گمراہی کے سامان پیدا کئے ہیں۔اس لئے جس دلیل سے تم کہتے ہو کہ ان کو دوہرے عذاب میں مبتلا فرما وہی دلیل تمہارے دوہرے عذاب کا بھی مطالبہ کرتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ ہر گز ظلم کرنے والا نہیں اور خدا تعالیٰ جب گمراہوں اور مغضوبوں سے باتیں کرتا ہے تو بظا ہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ دو ٹوک جواب دے دیا کوئی دلیل نہیں۔لیکن جب آپ گہری نظر سے دیکھیں تو خدا کے دو ٹوک جواب میں گہری حکمت کار فرما ہوتی ہے اور بہت ہی پر شوکت اور پر حکمت کلام ہے۔چنانچہ یہ بات سن کر پھر خدا فرماتا ہے۔وَقَالَتْ أَوْلَهُمْ لا غريهُمْ فَمَا كانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍ فَذُوتُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُونَ کہ دیکھ