ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 461 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 461

461 لیا تم نے۔تمہیں ہم پر کوئی فضیلت نہیں دی گئی۔تم سے کوئی غیر معمولی سلوک نہیں کیا جائے گا۔اب آؤ مل کر ہم اس عذاب کو چکھیں جو ہم نے بھی کمایا تھا اور جو تم نے بھی کمایا ہے۔ابو جہل کی بے وقوفانہ دعا سوره الانفال آیت ۳۱ تا ۳۴ میں سے ایک آیت میں یہ دعا ہے کہ دراد قالوا اللَّهُمَّ اِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْعَقَ مِنْ عِندِكَ فَامُطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّن السَّمَاءِ او انیتا بعذاب الیم کہ بعض ایسے بد بخت لوگ ہیں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین میں سے۔کیوں کہ ان کا ذکر ہو رہا ہے جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے اللہ اگر واقعی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم حق پر ہیں اور تو نے انکو حق عطا کیا ہے یہ حق تیری طرف سے ہے فَامْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّن السماء تو ہم پر پھر آسمان سے پتھروں کی بارش نازل فرما او انتنَا بِعَذَابِ ایستید یا ہمیں بہت ہی درد ناک عذاب دے۔یہ دعا کفار مکہ کی دعا ہے اور روایات سے پتہ چلتا ہے کہ ابو جہل نے یہ دعا کی تھی اور یہ کہا تھا کہ جس بندے کا میں انکار کر بیٹھا ہوں مجھے اتنا یقین ہے کہ یہ جھوٹا ہے کہ میں بڑی دلیری کے ساتھ تجھے مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ اے خدا اگر تو نے اس کو سچ عطا کیا ہے تو پھر آسمان سے بے شک مجھ پر پتھروں کی بارش نازل فرما اور جو بھی درد ناک عذاب ہو سکتا ہے ہمیں پہنچے۔ایک دفعہ ایک بدوی نے بنو عباس کے ایک خلیفہ کو یہ طعنہ دیا کہ تم لوگ جو قریش مکہ بن کر اپنی فضیلتوں کے قصے سناتے ہو۔خدا نے ہم پر تمہارا حال کھول دیا ہے۔تم بڑے ہی بیوقوف لوگ ہو اور قرآن کریم نے تمہاری بیوقوفی پر ہمیشہ کیلئے گواہی دے دی ہے۔اس نے تعجب سے پوچھا کہ کون سے گواہی۔اس نے کہا تم میں سے سب سے بڑا صاحب حکمت ابوالحکام ہی تھا تا۔جس کو خدا نے بعد میں ابو جہل قرار دیا اور ابوالحکم کا حال یہ تھا کہ خدا سے اس نے یہ دعا کی کہ اے خدا اگر محمد مصطفی کو تو نے حق عطا فرمایا ہے تو پھر ہم پر پتھروں کی بارش نازل فرما۔وہ بڑا پاگل آدمی تھا اس کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ اے