ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 440 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 440

440۔کہہ دے اور کہتا چلا جا کہ تم سب اپنے رب کے حضور یہ عرض کیا کرو اعوذ برب الناس - کہ میں پناہ چاہتا ہوں اس ذات کی جو تمام بنی نوع انسان کے رزق کا ذمہ دار ہے۔ان کی پرورش کا ذمہ دار ہے۔ان کو ادتی حالتوں سے اعلیٰ حالتوں کی طرف ترقی دیتے ہوئے لے جانے کا ذمہ دار ہے۔وہ ہر حال میں ان کی ہر ضرورت کو پورا کرنے والا ہے۔میں اس خدا کی پناہ مانگتا ہوں جو حقیقی۔ہے سیلان الناس وہی ہے جو تمام بنی نوع انسان کا بادشاہ بھی ہے۔الو الناس اور وہی ہے جو تمام بنی نوع انسان کا معبود بھی ہے۔یہ تین باتیں کہہ کر انسان کی تمام ضرورتوں کا خیال رکھ لیا گیا۔کوئی بھی ایسا دائرہ نہیں جس میں انسان کوشش کرتا ہے جس پر یہ دعا حاوی نہ ہو گئی ہو۔اس پر میں بہت تفصیل سے اپنے رمضان کے درسوں میں روشنی ڈال چکا ہوں اور کئی گھنٹے اس مضمون کو بیان کرتا رہا ہوں۔اس وقت میں دہرانے کی نیت سے کھڑا نہیں ہوا میں مختصراً آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں۔یا رزق ہے، اقتصادیات کا مضمون ہے جس نے انسان کو ہر طرف سے گھیرا ہوا ہے یا بادشاہتیں ہیں یعنی سیاست ہے اور یا پھر عبادت ہے۔مذہب کی دنیا ہے۔ان تین مضامین میں انسان کی تمام دلچسپیاں بیان کر دی گئی ہیں اور یہی تین ہیں جو انسانی زندگی پر ہر لحاظ سے حاوی ہیں۔تو فرمایا کہ تم یہ دعا کیا کرو کہ اے رب ا ہمیں لوگوں کا محتاج نہ بنا۔یہ مراد ہے۔اپنا محتاج رکھنا۔ہم غیروں کی محتاجی سے تیری طرف بھاگتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ اصل رزق تیرے ہاتھ میں ہے۔اس لئے دنیا کے بس میں نہ ڈالنا۔اپنی طرف سے رزق عطا فرمانا۔دنیا کے بادشاہ ظالم ہوتے ہیں۔ہم ان کے مقابل پر بے بس ہوں گے لیکن ہم جانتے ہیں کہ تو اصلی بادشاہ ہے۔تیرے ہاتھ میں ان بادشاہوں کی بھی گردنیں ہیں۔اس لئے ان کے ظلم سے ہم تیری پناہ میں آتے ہیں۔یہ ویسی ہی بات ہے جیسے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و علی آلہ و سلم کو جب کسری کے نمائندے نے یہ اطلاع دی کہ تم تین دلنا کے اندر اندر میری طرف آؤ اور اپنی حرکتوں سے توبہ کرو ورنہ میں تمہیں قتل کروا دوں گا۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و علی آلہ و سلم نے اس پیغام دینے والے