ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 439 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 439

439 میں آج تک یہ رواج پایا جاتا ہے اور بہت سے احمدی مجھے افریقہ سے لکھتے ہیں کہ ہم کس طرح بچیں۔ان کا جواب ۱۴۰۰ سال پہلے قرآن کریم نے دے دیا ہے۔یہ مراد نہیں ہے کہ ضرور ان کے بد نفوس میں اثر ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ان بد نفوس کے ساتھ وہ شرارتیں بھی کرتے ہیں اور دھوکہ بازیوں سے بھی کام لیتے ہیں۔بعض مخفی طریقوں پر زہر بھی دے دیتے ہیں۔بعض دشمنوں سے نقصان بھی پہنچا دیتے ہیں اور بظاہر اپنا ایک رعب بھی قائم رکھتے ہیں کہ ہمارے دم پھونکنے کے نتیجہ میں تمہیں یہ نقصان پہنچا ہے۔پس ہر قسم کے اس فتنہ سے بچایا گیا ہے جس کے نتیجہ میں تاریکی پھیلے، روشنی کم ہو، ایک نئی تخلیق ہو لیکن بدیاں لے کر آئے یا خود بد ہو جائے یا جہاں سے نکلی ہے اس کو بد بنا دے۔ہر اس قسم کے احتمالات کے لئے یہ کامل دعا ہمیں سکھائی گئی اور پھر فرمایا۔وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَمَدَ۔(الفلق : ۲ تا ۶ ہمیں حاسد کے شر سے بچا جب وہ حسد کرے۔یہ مضمون کچھ الجھا ہوا سا نظر آتا ہے کیونکہ حاسد کے شرسے بچا نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ حاسد کے شر سے بچا جب وہ حسد کرتے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ محض حسد کسی کو نقصان نہیں پہنچا تا جب وہ حسد کے نتیجہ میں بد عمل کی ٹھانتا ہے۔جب وہ نقصان پہنچانے کی کوئی تدبیر کرتا ہے تو وہ وقت ہے جب یہ کیا گیا۔اِذا حَسَدَ ورنہ لوگ خالی حسد کرتے پھرتے رہتے ہیں۔جلتے رہتے ہیں۔ان کا اپنا نقصان ہوتا ہے۔کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تو حاسد کہہ کر یہ تو بتا دیا کہ وہ ہر وقت حسد کی حالت میں ہے۔پھر اذاحمد کا کیا مطلب ہے؟ وہ شخص جو ہے ہی حاسد ہمیشہ ہی حسد کرنے والا ہو وہ جب حسد کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا یہ مطلب ہے کہ جب وہ اپنے حسد کو ایک بد عمل میں تبدیل کر دے۔شرارت میں تبدیل کردے۔جب فتنہ پیدا کرے۔جب سازش کرے۔تجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کر رہا ہے تو جانتا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ایسی صورت میں تو مجھے اس کے شر سے بچا۔پھر آخری دعا یہ ہے۔قُل اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ إِلَهِ النَّاسِ