ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 441 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 441

441 سے کہا کہ مجھے تھوڑی سی مہلت دو میں دعا کر کے معلوم کروں کہ اللہ چاہتا ہے۔دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو رات کو خبر دی اور اس خبر کو آ یوں بیان فرمایا کہ جاؤ واپس چلے جاؤ تمہارے بادشاہ کو میرے بادشاہ نے رات ہلاک کر دیا ہے۔وہ جو میرا مالک ہے اور میرا رب ہے اور میرا بادشاہ ہے اس نے تمہارے پادشاہ کو رات ختم کر دیا ہے۔وہ واپس گیا اور معلوم ہوا یعنی دیر کے بعد یہ خبر وہاں پہنچی کیونکہ ایران سے چلتی ہوئی بین کی طرف خبر پہنچتے پہنچتے دیر لگی تھی کہ عین اسی رات جس رات آنحضرت صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ و سلم کو یہ نظارہ دکھایا گیا خود کسری کے اپنے بیٹے نے اپنے باپ کو اس کے ظلموں کی وجہ سے قتل کر دیا۔تو یہ معنی ہیں ملک النا س کے۔آپ اگر یقین کریں کہ وہ ملک ہے تو وہ طاقت رکھتا ہے کہ دنیا کے بڑے سے بڑے بادشاہ سے آپ کو بچائے لیکن یقین کی بھی ضرورت ہے اور اس کی ملکیت کے اندر رہنے کی بھی ضرورت ہے۔آپ اس کی ملکیت سے نکل کر دنیا کی ملکیت میں زندگی بسر کریں اور جب تکلیف اٹھائیں تو اس کی طرف دوڑیں اس وقت یہ صادق نہیں آئے گی۔حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سوائے خدا کے کوئی ملک نہیں تھا اس لئے آپ کی التجا سنی گئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنی شان اور جلوے کو کس شان کے ساتھ ظاہر فرمایا پس اگر خدا کی ملکیت کے جلوے دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کی ملکیت کے دائرے میں رہیں پھر دیکھیں کہ خدا تعالی کسی طرح آپ کی نصرت فرماتا ہے اور الم النامیں ہر قسم کی خواہشات سے نجات کے لئے یہ دعا ہے۔خدا تعالیٰ قرآن کریم میں خود فرماتا ہے کہ کئی دفعہ انسان اپنی تمناؤں کو اپنا معبود بنا لیتا ہے اور وہ نہیں جانتا کہ وہ مشرک ہو رہا ہے۔بظاہر یہی کہتا ہے کہ لااله الا الله کوئی اور خدا نہیں ہے سوائے اللہ کے۔لیکن چھوٹی چھوٹی باتوں کو اپنا خدا بتائے پھرتا ہے۔چھوٹے چھوٹے طاقتور لوگوں کو اپنا خدا بنائے پھرتا ہے اور اپنی تمناؤں کو ہر دوسری چیز پر غالب رکھتا ہے۔ایسا شخص جب یہ دعا کرے گا تو اس کی دعا میں کوئی اثر نہیں ہو گا کیونکہ خدا کے گا کہ تم کہتے ہو کہ مجھے تم نے الے بنایا اور روز مرہ