ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 438 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 438

438 کو نصیب نہیں ہوتا۔بعض ایسے بچے پیدا کرتی ہیں جو ساری عمران کے لئے سوہا روح بن جاتے ہیں۔عذاب کا موجب بن جاتے ہیں ان کو سنبھالنے میں بہت و اٹھاتی ہیں۔ان کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ از خود نہ وہ کھا سکتے ہیں نہ چل سکتے ہیں سنبھل سکتے ہیں۔پس تخلیق کے ساتھ جہاں بہت سی خیر وابستہ ہے اور یاد رکھیں۔خیر غالب ہے وہاں کچھ طبعی شر بھی ہیں۔پس یہ ایک بہت ہی اہم دعا ہے جسے ہمیں ہر ایسی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے خدا کے حضور مانگتے رہنا چاہئے جس میں ایک کیفیت دوسری کیفیت میں بدلتی ہے۔وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ اندھیروں کے اس شر سے ہمیں بچا جبکہ ہر طرف فتنے اور شرارتیں پھیل جاتی ہیں۔وَمِن شَرِّ النَّفْتِ فِي الْعُقَدِ اور ان پھونکنے والوں کے شر سے بچاج رشتوں میں پھونکتے ہیں۔تعلقات میں پھونکتے ہیں اور بدنیتوں کے ساتھ کوششر کرتے ہیں کہ انسانی تعلقات کو خراب کر دیں اور ان میں دشمنیاں اور نفرتیں پیدا کریں۔اس دعا کی گھریلو حالات کو سدھارنے کے لئے بھی بہت شدید ضرورت ہے۔آج تک بارہا میں نے توجہ دلائی ہے کہ اپنے گھروں میں رحمی رشتوں کا خیال کریں اور اپنے تعلقات کو سدہاریں لیکن اس کے باوجود کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جبکہ ایسی تکلیف دہ خبریں یا ساسوں کی طرف سے یا بہوؤں کی طرف سے یا ماؤں کی طرف سے یا بیٹیوں کی طرف یا بیٹوں کی طرف سے نہ آتی ہوں۔جہاں ایک دوسرے سے شکوے کئے گئے ہیں بعض بیویاں اپنے خاوندوں کے شکوے کرتی ہیں۔بعض بچے اپنے باپوں کے شکوے کرتے ہیں کہ سخت کلام میں بد تمیز ہیں۔ہر وقت گھر میں ایک عذاب بنا ہوا ہے۔تعلقات کو توڑنے والے ہیں بجائے جوڑنے کے۔اور اس کے نتیجہ میں شر پیدا ہوتا ہے۔اس کے نتیجہ میں گھر جنتوں کی بجائے جہنم میں تبدیل ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالٰی نے یہ دعا سکھائی کہ ہر ایسے پھونکنے والے کے شرسے ہمیں بچا جس کے نتیجہ میں تعلقات خراب ہوتے ہیں اور یہاں پھونکنے والوں سے مراد جادو ٹونے ٹوٹکے کرنے والے بھی ہیں۔مطلب یہ ہے کہ وہ کوشش کرتے ہیں کہ کی طرح ان کے دم سے ان کے بدن سے دوسرے کے حالات بگڑ جائیں۔افریقہ