ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 437
437 کر برسیں گی۔فائدہ پیچھے چھوڑ کر جائیں گی یا نقصان پیچھے چھوڑ کر جائیں گی۔یہ فیصلے انسان کے اعمال نے کرنے تھے۔پس ایسا ہی ہوا۔دیکھیں بارشیں آئیں لیکن اور رنگ میں آئیں۔بجائے فائدہ پہنچانے کے ہمیشہ کے لئے اس قوم کا نہ کا نشان مٹا گئیں۔no یہ دعا سورۃ نوح آیات ۶ تا ۲۹ سے لی گئی ہے۔یعنی ان آیات میں وہ سارا مضمون بھی بیان ہے اور دعا بھی اس میں شامل ہے۔اب میں آخری دو دعاؤں کا ذکر کرتا ہوں جو معوذتین کے نام سے مشہور ہیں اور جن میں ڈالی آموڈ پریت کہہ کر ہمیں بعض دعائیں سکھائی گئی ہیں۔فرمایا۔قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اے محمد صلی اللہ علیہ و سلم تو یہ کہہ اور کہتا چلا جا اور جو سنے وہ بھی آگے یہ پیغام دیتا چلا جائے کہ تم اپنے رب سے یہ کہا کرو۔اعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ کہ ہم اس رب کی پناہ میں آتے ہیں جو تخلیق کا رب ہے۔جو راتوں کو صبحوں میں تبدیل کرتا ہے اور صبحوں کو راتوں میں بدلتا ہے۔جس کی طاقت سے یا جس کی تقدیر سے نئی نئی چیزیں پھوٹتی ہیں۔گٹھلیاں پھٹتی ہیں اور ان سے کونپلیں نکلتی ہیں جو درخت بن جاتی ہیں۔بیج پھوٹتے نہیں اور طرح طرح کی سبزیاں اور پودے پیدا کرتے ہیں۔اس سارے نظام کو فلق کا نظام کہا جاتا ہے۔ایک عورت حاملہ ہوتی ہے اور ایک بچے کو پیدا کرتی ہے۔پس کائنات میں جہاں بھی ایک چیز اپنی کیفیت بدل کر ایک دوسرے روپ میں تبدیل ہوتی ہے اس نظام کو نظام فلق کہا جاتا ہے تو دعا یہ سکھائی گئی کہ آعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ تو کہ خود بھی کہہ اور لوگوں سے بھی کہہ اور لوگ آگے لوگوں کو کہتے چلے جائیں کہ وہ خدا سے یہ عرض کیا کریں کہ اے خدا ہم رب فلق کی پناہ چاہتے ہیں یعنی تیری پناہ چاہتے ہیں۔جس نے یہ نظام پیدا فرمایا ہے۔مِن شَرِّ مَا خَلَق ہر تخلیق کے ساتھ کچھ شر وابستہ ہیں۔ہمیں ہر تخلیق کی خیر تو عطا فرما لیکن ہر تخلیق کے شر سے بچا لے۔اب آپ دیکھیں بعض عورتیں بیچاری حاملہ ہوتی ہیں۔نو مہینے تکلیف اٹھاتی ہیں لیکن بچہ پیدا کرتی ہیں اور اسی حالت میں وفات پا جاتی ہیں اور اپنے بچے کا منہ دیکھنا بھی ان