ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 431 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 431

431 کیا کہ ایک دعا فرعون کی بیوی کی دعا قرآن کریم نے محفوظ فرمائی ہے۔وہ یہ ہے ضَرَبَ الله مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَاتٌ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بيتان الجنة ونجنِي مِنْ فِيْمَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ (التحريم : ١٢) اور اللہ تعالٰی نے مومن بندوں کے لئے ایک یہ بھی مثال بیان فرمائی ہے کہ وہ بعض پہلوؤں سے فرعون کی بیوی کی طرح ہوتے ہیں۔کس پہلو سے؟ اس پہلو سے کہ جب اس نے اپنے آپ کو مجبور اور مغلوب دیکھ کر اور ایک فاسق و فاجر بادشاہ کے ہاتھوں بے بس پاتے ہوئے یہ عرض رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا اے خدا مجھے تو اپنے پاس گھر عطا کر۔یہاں فرعون کے گھر میں بسنے والی ایک مجبور عورت ہے۔اس کا اور کوئی اپنا گھر نہیں۔کتنی درد ناک دعا ہے۔اس نے اپنے سارے دکھوں کا تصور کر کے کہ میں خدا کی عبادت کرنا چاہتی ہوں۔میں نیک بننا چاہتی ہوں مگر ایک ظالم کے گھر میں ڈالی گئی ہوں جو ایسا ظالم ہے جو بڑی عظیم الشان سلطنت پر حکومت کر رہا ہے اور ساری قوم اس سے ڈر رہی ہے اس کے گھر سے نکل کر جاؤں بھی تو کہاں جاؤں۔اس لئے دنیا کا کوئی گھر مجھے پناہ نہیں دے سکتا۔یہ مضمون ہے۔عرض کرتی ہیں۔ربِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْنا فِي الْجَنَّةِ اے خدا مجھے تو اپنے پاس جنت میں گھر بتا دے۔ونجني مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ مجھے فرعون سے بھی نجات بخش اور اس کی بد اعمالیوں سے بھی نجات بخش۔وَنَحْنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ مجھے ظالموں کی قوم سے نجات عطا فرما۔پس مومنوں پر بھی ایسی کیفیت آتی ہے کہ وہ بے بس ہو جاتے ہیں۔ایک ایسے ملک میں بستے ہیں جہاں کا بادشاہ ظالم ہے۔جہاں کی قوم ظالم ہے۔وہ وہاں سے نکل کر کہیں جا نہیں سکتے۔جو نکل کر جا سکتے ہیں وہ تو ہجرت کر جاتے ہیں مگر ایسے بھی کمزور ہیں جیسے فرعون کی بیوی ہے۔وہ نہ گھر سے نکل سکتی ہے نہ ملک سے نکل سکتی ہے۔ایسے بے بس بھی ہیں ان کے لئے بھی خدا تعالیٰ نے دیکھیں کیسے نجات کے اور