ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 432
432 سامان مہیا فرما دیئے۔قرآن کریم میں ایک ایسی درد ناک دعا لکھ دی جس کے نتیجہ میں ایسے بے بس لوگ بھی فیض پا جاتے ہیں اور براہ راست خدا سے نجات کی راہیں مانگتے ہیں اور یہ عرض کرتے ہیں کہ اس دنیا کے گھر کی کیا بات ہے ہمیں جنت میں اپنے حضور گھر عطا فرما۔حضرت نوح علیہ الصلوۃ و السلام کی ایک اور دعا ہے جو بہت ہی درد ناک ہے اور اس میں بہت تفصیل کے ساتھ یہ نقشے کھینچے گئے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے لئے کیا کیا کچھ کیا۔بعض لوگ پیغام پہنچانے کے بعد جب دیکھتے ہیں کہ پیغام کو قبول نہیں کیا گیا یا ان سے حقارت کا سلوک کیا گیا تو بد دعا میں بے حد بے مبری کرتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ اچھا اس نے ہماری بات نہیں مانی رد کر دی ہے اب دیکھو خدا کا عذاب اسے پکڑے گا۔یہ بالکل جاہلانہ اور بچگانہ باتیں ہیں اور غیر مومنانہ باتیں ہیں۔خدا کے انبیاء کی طرز اس سے بالکل مختلف ہے۔وہ پیغام رسانی کی حد کر دیتے ہیں۔اس طرح پیغام پہنچاتے ہیں کہ عام انسان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا اور پھر بظا ہر ناکام و نامراد ہونے کے باوجود وہ خدا سے عذاب نہیں چاہتے۔یہاں تک کہ اللہ تعالٰی خود ان کو جتائے کہ کسی قوم کا کیا انجام ہونے والا ہے۔اب دیکھیں حضرت نوح نے کس طرح دعوت الی اللہ کا حق ادا کیا تھا۔امریکہ میں بار بار مجھ سے یہ کہا گیا کہ ہم نے تو دعوت الی اللہ کا حق ادا کیا۔لوگ سنتے ہی نہیں۔مگر کیا آپ نے اس طرح کیا جس طرح حضرت نوح بیان کر رہے ہیں۔قال رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَ نَهَارًا عرض کیا اے میرے رب میں نے تو اپنی قوم کو دن کو بھی پکارا اور رات کو بھی پکارا۔فلم يزدهم دعاء في الافرارا۔اور میری پکارنے ان کو مجھ سے متنفر ہونے کے سوا اور کچھ نہ دیا۔وہ مجھ سے اور زیادہ بھاگنے لگے۔وإني كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا آمَا بعهُمْ فِي أَذَانِهِمْ وَاسْتَخْشَواثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتَكْبَارًا - اے میرے خدا جب بھی میں نے ان کو بلایا تاکہ تو انہیں بخش دے۔اپنی خاطر نہیں بلکہ اس لئے کہ وہ تیری بخشش حاصل کریں۔