ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 409
409 ہی اونی حالت سے ترقی کرتے کرتے انسان کی حالت تک پہنچتا ہے۔اب آپ دیکھیں جس نے ربنا اللہ کا دعویٰ کیا تھا اسی کی مزید صفت بیان ہوئی ہے۔رب کا مطلب ہی یہ ہے ادنی سے ترقی دے کر اعلیٰ حالت تک پہنچانے والا۔انسانی رشتوں میں اس کی بہترین مثال ماں بنتی ہے فرمایا اپنی ماں کی طرف دیکھو کہ ہر انسان کی ماں نے اسے بڑی مصیبتوں سے پیٹ میں پالا اور پھر بڑے خطرات کے ساتھ اس کو جنم دیا۔وَحَمْلُهُ وَيَصْلُه تَلْقُونَ شَهْرًا اور یہ عرصہ پیٹ میں اٹھائے پھرنے کا اور پھر وضع حمل کا اور پھر دودھ پلانا یہ تھیں مہینوں تک پھیلا ہوا ہے۔حتى إذا بلغ اشده ويلم البنين سنة یہاں تک کہ جب وہ بلوغت کو پہنچ گیا اور چالیس سال کی عمر کو پہنچ گیا قال رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي انعمت ملی تو اس نے دعا کی جو میں بیان کروں گا۔یہاں میں نے کہا تھا کہ آگے جا کر مضمون بدل جائے گا۔ایک مضمون ہے عام جو سارے بنی نوع انسان میں مشترک ہے۔ہر ایک کی ماں اسی طرح اسے جنم دیتی ہے لیکن ہر شخص احسان مند نہیں ہوا کرتا۔اب واپس حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مضمون لوٹ گیا ہے۔ایک عام واقعہ بیان کر کے جو سب بنی نوع انسان میں مشترک ہے پھر الانسان بمعنی محمد رسول اللہ اس مضمون کو دوبارہ اٹھا لیا گیا اور یہ کہا گیا کہ جب وہ بلوغت کو پہنچا اور ۴۰ سال کی عمر کو پہنچا اور ۴۰ سال کی عمر آپ کی نبوت کی عمر تھی اس لئے ۴۰ سال کا لفظ استعمال ہوا ہے ورنہ ہر انسان تو ۴۰ سال کی عمر کو ہ یہ بات نہیں کہا کرتا۔پس یقینا قطعی طور پر یہاں حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں اور آپ کا نقشہ بیان فرمایا ہے کہ آپ نبوت پانے کے بعد کیا دعائیں کیا کرتے تھے۔فرمایا قالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتِكَ التي الْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَى وَالِدَي اے میرے رب! مجھے توفیق عطا فرما کہ میں اس نعمت کا شکریہ ادا کر سکوں جو تو نے مجھ پر کی اور اس نعمت کو تمام کر دیا۔( تمام کا مضمون لفظاً ظاہر نہیں لیکن نبوت میں تمام کا لفظ شامل ہوتا ہے اس لئے تمام کا لفظ داخل کیا) آیت کریمہ فرماتی ہے آپ اور منی آن آشكُرَ نِعْمَتَكَ