ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 408
408 يخزنون دنیا کا کوئی خوف ان پر غالب نہیں آسکتا۔بے خوف ہو جاتے ہیں اور جو بھی نقصان پہنچ جائے ان کو غم نہیں ہوتا۔ہمیشہ سکینت کی حالت میں زندگی بسر کرتے ہیں۔کتنا عظیم الشان انسان ہے جو قرآن کریم پیدا کرنا چاہتا ہے۔اسی لئے اس دعا کو اللہ تعالٰی نے الانسان کی دعا کے طور پر پیش فرمایا کہ ابھی ان کی صفات بیان ہو رہی ہیں دعا ابھی آگے آتی ہے فرمایا۔أوليك أصْحَبُ الْجَنَّةِ لدين فيها یہی وہ لوگ جو جنتوں میں داخل کئے جائیں گے اور پھر ہمیشہ رہیں گے۔ان جنتوں سے ان کو کبھی نکالا نہیں جائے گا۔جَزَاء بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ یہ ان کے اعمال کی جزاء ہے جیسا کہ وہ ہمیشہ کے لئے خدا کے ہو گئے تھے۔خدا ہمیشہ کے لئے ان کا ہو جائے گا۔ووَصَّيْنَا الانْسَانَ بِوَالِدَيْهِ اخشنا ہم نے الانسان یعنی محمد رسول اللہ کو انسان کامل کو یہ نصیحت فرمائی کہ اپنے والدین سے احسان کا سلوک کرو۔یہاں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو اپنے والدین کا منہ نہیں دیکھا۔والدہ کو دیکھا لیکن تھوڑے عرصہ کے لئے اور والد تو بعض روایات کے مطابق آپ کے پیدا ہونے سے پہلے ہی فوت ہو چکے تھے۔پس بوالدیه اخطنا کا کیا مطلب ہے۔یہاں دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو جو نصیحت ہے وہ تمام بنی نوع انسان کو نصیحت ہے کیونکہ انسان کامل کو جو نصیحت کی جائے اس میں تمام اوئی انسان شامل ہو جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مزید کسی تمہید باندھنے کی ضرورت نہیں پڑی۔فرمایا ہم نے انسان کامل سے یہ کہا تھا کہ یاد رکھو کہ اپنے والدین سے ہمیشہ احسان کا سلوک کرنا حَمَلَتْهُ أَمهُ كُرَهَا وَوَضَعَتْهُ كُرْهاً یہ مضمون بھی دیکھ لیجئے عام ہے۔تمام بنی نوع انسان پر یہ مضمون مشتمل ہے۔آگے جا کر یہ مضمون اور رنگ اختیار کر جائے گا۔تم دیکھو تمہاری ماؤں کا تم پر کتنا احسان ہے یا اگر لفظی ترجمہ کریں تو غائب میں مضمون بیان ہو رہا ہے۔تو ترجمہ ہو گا ہر انسان کی ماں اسے بہت تکلیفوں سے پیٹ میں اٹھائے پھرتی ہے۔وَوَضَعَته گرها اور بہت تکلیف کے ساتھ جنم دیتی ہے۔تو مینے تک اپنے پیٹ میں پالتی ہے۔ایسی حالت میں کہ وہ بہت