ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 410 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 410

410 التي انعمت علي اے میرے رب! مجھے توفیق عطا فرما کہ میں اس نعمت کا شکریہ ادا کرتا رہوں۔شکریہ ادا کر سکوں اس کی توفیق پاؤں جو تو نے مجھے پر فرمائی۔و علی والدی اور میرے والدین پر تو نے جو نعمت کی ہے اس کا بھی میں شکر ادا کروں۔- اب دیکھیں یہاں والدین سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احسان کا یہاں ذکر نہیں فرمایا اس لئے کہ آپ کے والدین پہلے گزر چکے تھے۔یہ مضمون لگتا ہے دو دھاگوں سے بنا ہوا ہے کبھی عام ہو جاتا ہے کبھی خاص ہو جاتا ہے۔عام ہو جاتا ہے تو تمام بنی نوع انسان پر پھیل جاتا ہے جب سمٹتا ہے تو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات میں سمٹ آتا ہے۔آپ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے خدا! مجھ پر تو نے جو اتنا بڑا احسان فرمایا یہ توفیق عطا فرما کہ اس پر شکر کا حق ادا کر سکوں اور صرف اسی کا نہیں بلکہ اپنے والدین کی طرف سے بھی تیرا شکر ادا کروں۔صاف ظاہر ہے که والدین گذر چکے ہیں اور ان کو پتہ نہیں کہ کیا نعمت ان کو ملی ہے اور واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین گذر چکے تھے ان کو کیا پتہ تھا کہ ان کی صلب سے دنیا کا سب سے بڑا انسان پیدا ہونے والا ہے اور وہ ایسے اعلیٰ مدارج تک پہنچے گا کہ کبھی کسی انسان کے تصور میں بھی یہ نہیں آسکتا تھا کہ کوئی شخص خدا کے اتنا قریب ہو جائے اور چونکہ والدین ایسی حالت میں گزرے تھے کہ ابھی وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے اور نہ مسلمان ہو سکتے تھے اور انبیاء کو حکم نہیں ہے کہ وہ اپنے ان والدین کے لئے دعا کریں جن کے متعلق احتمال ہو کہ وہ مشرک ہیں۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا نہیں کی بلکہ یہ عرض کیا ہے کہ اے خدا ! ان پر بھی تو نے بہت بڑا انعام کیا ہے۔اتنا بڑا انعام کہ مجھے ان کے گھر پیدا کر دیا اور وہ شکر ادا نہیں کر سکتے۔ان کو علم نہیں ہے کہ کیا احسان تو نے ان پر کیا ہے۔مجھے توفیق عطا فرما کہ میں ان کی طرف سے تیرا شکر ادا کروں۔میں سمجھتا ہوں کہ ان کی مغفرت کی دعا کرنے کا اس سے اعلیٰ طریق اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا اور ان معنوں میں احسان کا بدلہ بھی اتار گئے۔مضمون دیکھیں کس طرح اٹھایا گیا ہے کہ والدین