ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 405
405 جہاز پر میں سوار تھا میرے ساتھ سری لنکا کے ایک کیبنٹ منسٹر بھی تھے۔ہم سری ) پہنچنے لگے تو اس سے چند منٹ پہلے ایسا خوفناک طوفان آیا کہ میں نے اس سے پہلے جہاز میں کبھی ایسا خوفناک منظر نہیں دیکھا۔کہرام مچ گیا۔سارے جہاز میں چیخ و پکار اور دعائیں کوئی بیوی بچوں کو یاد کر رہا تھا کوئی خدا کو یاد کر رہا تھا اور جہاز بے حد اونچا نیچا ہو رہا تھا اور میں اطمینان سے بیٹھا ہوا تھا۔مجھے یہ دعا یاد تھی اور میں بالکل ایک ذرا بھی فکر میں مبتلا نہیں ہوا۔خیر خدا نے فضل کیا۔کچھ دیر کے بعد ہم اس طوفان سے گزر گئے۔جب نیچے اترنے لگے تو اس نے مجھ سے پوچھا تم کون ہو۔میں نے کہا میں مسلمان ہوں۔کہتا ہے کہ اس جہاز میں اور بھی تو بہت سے مسلمان سفر کر رہے ہیں۔تم کون سے مسلمان ہو۔خیر میں اس کی بات سمجھ گیا۔میں نے اس کو بتایا۔کہتا ہے میں حیران ہوں کہ سارا جہاز ایک قیامت کا نمونہ دکھا رہا تھا اور تم آرام سے بیٹھے ہوئے تھے تمہیں کچھ بھی پتہ نہیں۔میں نے کہا اس لئے کہ ولنا ان ربنا لمنقلبون نے ہمیں پیغام دیا ہے کہ ہم یہ چھوٹے چھوٹے سفر کرتے ہیں۔بعض منازل کو پیش نظر رکھ کر اللہ تعالیٰ ہمیں یاد کراتا ہے کہ اپنی آخری منزل نہ بھول جانا۔وہ اصل منزل ہے اور دائمی مقام ہے۔ہم نے لوٹ کر وہیں آتا ہے تو میں یہ سوچ رہا تھا کہ آج چلے جائیں، کل جائیں، جانا تو وہیں ہے۔فرق کیا پڑتا ہے۔پس مومن کو ایسی دعا کے بعد کا یہ جملہ غیر معمولی تقویت دیتا ہے۔اول تو یہ کہ اس دعا کی برکت سے میرا ایمان ہے کہ بہت سے حادثات سے مومن بچایا جاتا ہے اور جہاں مقدر ہو بھی وہاں بڑی شان اور طمانیت کے ساتھ خدا کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے۔پس دعائیں وہی کیا کریں جو انعام یافتہ لوگوں کی دعائیں ہیں مگر انعام یافتہ لوگوں کی اداؤں کے ساتھ ان کے مضامین میں ڈوب کر دعائیں کیا کریں۔یہ دعا چونکہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سکھائی گئی تھی اس لئے ساتھ ہی اس کے گہرے مطالب بھی بتا دیئے گئے جن کو آپ سے بہتر اور کوئی نہیں کچھ سکتا تھا کہ تو اور تیرے ساتھی یہ دعائیں تو کیا کرو گے لیکن ہمیشہ یہ یاد رکھتے