ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 404 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 404

404 نہیں آسکتیں اور واقعہ یہی ہے کہ موجودہ دور میں جب بھی سائنسدانوں نے تکبر کئے ہیں خصوصاً سواریوں کے معاملہ میں تو ہمیشہ ان کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔انگلستان میں ایک بہت بڑا جہاز بنایا گیا۔اتنا شاندار کہ کہتے تھے کہ کبھی ایسا جہاز نہ بنا۔شاید اور نہ آئندہ بن سکے اور بہت ہی فخر تھا انگلستان کو کہ ایسا مسافر جہاز جو انگلستان سے امریکہ تک سفر کرے گا پہلے کبھی اس کا تصور نہیں تھا۔ہر قسم کی سہولت تھی۔ہر قسم کے خطرات سے بچنے کا انتظام تھا اور بڑی شان اور تکبر کے ساتھ انہوں نے روانہ کیا اور وہ اپنے پہلے تجرباتی سفر میں ہی سمندر میں غرق ہو گیا اور بے شمار لوگ اس کے ساتھ غرق ہو گئے جو بڑی شان کے ساتھ اس پہلے تاریخی سفر میں شامل ہو رہے تھے۔جہازوں کا بھی اعتبار نہیں ہے۔اعتبار ہو بھی تو قانون قدرت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔جب طوفان اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو انسان کی بتائی ہوئی مشین ان کے سامنے بالکل ایک پر کاہ کی حقیقت رکھتی ہیں۔جس طرح ایک چھوٹا سا خاک کا ذرہ ہو یا ایک تنکا ہو اور وہ اڑتا پھرے ایسی حیثیت ہو جایا کرتی ہے۔اس لئے احمدیوں کو خصوصیت سے یاد رکھنا چاہئے کہ ہر سواری پر سوار ہونے کے بعد یہ دعا کیا کریں لیکن اس کے ساتھ ایک اور بھی کلمہ زائد فرما دیا گیا جو بہت ہی پر لطف کلمہ ہے وہ یہ ہے کہ وَإِنَّا إِلَى رَيْنَا لَمُنْقَلِبُونَ کہ ہم نے آخر خدا ہی کی طرف جاتا ہے۔بہت گہرا مضمون ہے جو اس کلمے میں بیان فرمایا گیا ہے۔ایک یہ کہ سواریوں پر بیٹھتے ہوئے خصوصاً خطرناک سواریوں پر بیٹھتے ہوئے خدا کے مومن بندے دعائیں تو کرتے ہیں لیکن ڈرتے نہیں ہیں۔وہ دعا کرنے کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ اے خدا! یہ تو عارضی سفر ہے۔اصل سفر تو ہمارا تیری طرف ہوتا ہے۔ہم نے بالآخر تجھے تک پہنچنا ہے اس لئے اگر تیری مرضی یہ ہو کہ یہ جہاز غرق ہو جائے ہم اپنے وطن واپس نہ بھی جا سکیں تو اصل وطن تو وہ ہے جہاں تو ہے۔جہاں تجھ سے جا کر ملنا ہے۔اس لئے ہم یقین رکھتے ہیں۔در نگال رَحْنَا لَمُنْقَلِبُونَ ہم تو یقیناً اپنے رب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔اس کا ایک دلچسپ تجربہ مجھے بھی ہوا۔۱۹۶۵ء میں جب میں سری لنکا گیا تو جس