ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 406
406 ہوئے کہ بالآخر خدا ہی کی طرف لوٹنا ہے۔انسان کامل کی ایک دعا اب ایک دعا ہے جسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ الانسان کی دعا ہے۔الانسان سے مراد یہ ہے کہ انسان کامل کی دعا ہے کیونکہ خدا تعالٰی نے اسی طرح اس دعا کو پیش فرمایا ہے اور اس سے میں سمجھتا ہوں کہ یقیناً یہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا ہے۔اس میں الانسان کے لفظ کے سوا اور بھی اشارے ہیں جو اس دعا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا بتاتے ہیں فرمایا۔ان الَّذِينَ قَالُوا ربنا الله ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (الاحقاف : (۱۴) یقیناً وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے ثُمَّ اسْتَقَامُوا پھر وہ استقامت اختیار کرتے ہیں۔فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوتَ ان پر کوئی خوف نہیں آتا اور کبھی، وہ اپنی ضائع شدہ چیزوں پر غم نہیں کرتے۔يَحْذَنُون کا یہ مطلب نہیں ہے کہ غم کے موقعے ان کو پیش نہیں آتے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جب خوف آتے ہیں تو آتے ضرور ہیں لیکن وہ ان سے ڈرتے نہیں۔مرعوب نہیں ہوتے بلکہ ہر خوف کے وقت خدا کا خوف ان پر غالب رہتا ہے اور دنیا کے خوفوں سے ان کو بچاتا ہے پھر کچھ نہ کچھ نقصان بھی پہنچتا ہے جیسے کہ قرآن کریم میں دوسری جگہ بیان فرمایا گیا۔لیکن ان نقصانوں کے نتیجہ میں غم میں مبتلا نہیں ہوتے۔جاتا ہے تو کہتے ہیں ٹھیک ہے چلا گیا اور احمد یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس دور میں بھی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ایسے غلام پیدا ہوئے جن کا سب کچھ لوٹ لیا گیا لیکن وہ مسکراتے رہے۔غم میں مبتلا نہیں ہوئے۔میں نے پہلے بھی خطبوں میں ایک نوجوان کا ذکر کیا تھا جو ۱۹۷۴ء کے فسادات میں مجھے ملنے آیا۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث " سے ملنے آیا تھا تو میں ان دنوں وقف جدید میں کام کیا کرتا تھا وہ میرے پاس بھی آگیا اور کمرے میں داخل ہوا تو باچھیں