ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 403
403 صحابہ کو سکھائی۔یہ سواری کی دعا ہے۔اِذا اسْتَوَيْتُهُ عَلَيْهِ وَتَقُولُوا سُبْحْنَ الَّذِي مَخْرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّالَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبَّنَا لَمُنْقَلِبُونَ (الزخرف : (۱۵) کہ وہ لوگ جب سوار ہوتے ہیں تو سوار ہونے پر خدا سے یہ دعا مانگتے ہیں۔فرمایا جب تم سواریوں پر چڑھ جایا کرو اور قرار پکڑ لیا کرو تب یہ کہا کرو۔پاک ہے وہ ذات جس نے سواری کو ہمارے لئے مسخر فرما دیا۔ہم تو اس لائق نہیں تھے کہ اس سواری کو اپنے تابع کر سکیں۔مقرنین کا مطلب ہے لگام ڈال سکیں۔مسخر کرنا جیسے کسی چیز کو ہمیشہ کے لئے دائمی طور پر اپنا غلام بنا لیا جائے اور اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے اور وہ چیز مجال نہ رکھتی ہو کہ مالک کی مرضی کے خلاف کوئی بات کر سکے۔یہ مضمون ہے جو تسخیر کے تابع ہے اور اسی کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا ومَا كُنَّالَه مُقرِنِينَ ہم ہرگز طاقت نہیں رکھتے تھے کہ اسے اپنے تابع فرمان کر سکتے۔ورنا إلى ربنا لمنقلبون اور یقینا ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔یہ دعا بھی اس زمانے کے ساتھ خصوصیت سے تعلق رکھتی ہے۔کیونکہ پہلی سواریاں جو انسان کے لئے بنائی گئی تھیں یعنی جانور ان میں اور موجودہ سواریوں میں بہت بڑا فرق پڑ چکا ہے۔یہ سواریاں غیر معمولی طور پر طاقتور ہیں اور ان کا تعلق بھی اسی دجال سے ہے جس کے متعلق میں ابھی دعا پڑھ چکا ہوں۔اس لئے گو یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ آگے پیچھے بھی دعائیں اسی لئے رکھی گئیں کہ یہ اسی زمانہ کی دعائیں ہیں کیونکہ صورت الگ الگ ہے لیکن خواہ کوئی اسے حسن اتفاق سمجھے خواہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص تقدیر سمجھے۔امر واقعہ یہی ہے کہ جہاں پہلی دعا کا ذکر ہے اور آخری زمانے کی بدیوں کا ذکر ہے وہاں اس کے معا بعد جو دوسری دعا ہمیں قرآن کریم میں ملتی ہے وہ یہی دعا ہے اس لئے میرا رجحان اسی طرف ہے کہ یہاں موجودہ زمانے کی سواریاں خصوصیت سے پیش نظر ہیں اور اللہ تعالٰی ہمیں سکھاتا ہے کہ جب ان سواریوں پر بیٹھا کرو تو یہ دعا کیا کرو کہ بظاہر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے قابو کرلی ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ تیرے ہی قابو میں ہیں۔اگر تیرا قانون قدرت ساتھ نہ دے تو یہ سواریاں ہرگز ہمارے قابو