ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 401 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 401

401 جس کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ تو نے اس پر رحم فرمایا۔اب دوبارہ اس دعا کو پڑھیں تو اس کا زیادہ واضح مضمون سمجھ میں آجاتا ہے۔ہم کہتے ہیں ہم سے عفو کا سلوک فرما۔جو غلطیاں ہم کر جاتے ہیں ان سے صرف نظر فرمائے۔گویا تو نے دیکھا ہی نہیں۔واغفر لنا جو گناہ کر بیٹھے ہیں وہ بخش دے۔اس لئے ناکہ ہم اور گناہ کرتے چلے جائیں ؟ نہیں! و ارحمنا اور ہم پر رحم فرما ان معنوں میں کہ ہمیں بدیوں سے بچالے۔ہم آئندہ بدیاں کریں ہی نہ۔پس یہ مضمون ملائکہ کی اس دعا سے واضح ہوا اور جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا يَوْمَئِذٍ اس لئے کہا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے خود پیشگوئی فرمائی ہے کہ جیسی بدیوں کی آزمائش میری امت میں آنے والی ہے ویسی آزمائش کبھی کائنات میں نہیں آئی۔فرمایا کہ میرے زمانہ میں دجال نے پیدا ہوتا ہے اور فرمایا کہ دجال سے تمام انبیاء اپنی اپنی امتوں کو ڈراتے آئے ہیں کہ خبردار! ایک ایسا زمانہ ظاہر ہونے والا ہے کہ دجال ظاہر ہو گا اور کبھی ایسی بدیاں انسان کے سامنے امتحان بن کر اٹھ کھڑی نہیں ہوں گی جیسے اس زمانہ میں اٹھ کھڑی ہوں گی۔اور اکثر انسانوں کو مغلوب کرلیں گی۔بدیاں پیدا کرنے والے کا نقشہ بھی ایک بہت بڑے دیوہیکل وجود کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو مذہب سے کلیتہ کاری اور دنیا میں بے انتہا ترقی یافتہ ہے اور جہاں تک بدیوں کی تفاصیل کا تعلق ہے تو احادیث میں بھی اور قرآن کریم میں بھی مختلف جگہ پر ان کا ذکر ملتا ہے کہ آئندہ ایسے ایسے دن آنے والے ہیں اور یہ وہ دن ہیں جن میں سے ہم گزر رہے ہیں۔پس يَوْمَئِذٍ کا سب سے زیادہ تعلق اس زمانہ سے ہے۔اب دیکھیں کہ اس دور میں مغرب سے جیسی بدیوں کے سیلاب نکلے ہیں اور دنیا کو ڈبوتے چلے گئے ہیں ویسے اس سے پہلے کسی زمانے میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔جس ملک میں آپ بیٹھے ہیں یہ بعینہ اس نقشے کا تصور ہے جو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کی اداؤں کے متعلق کھینچا تھا۔چودہ سو سال پہلے آپ نے فرمایا کہ اس کی دینی آنکھ نہیں ہوگی یعنی روحانیت سے اور تقویٰ سے اور اللہ کی محبت سے وہ عاری ہو گا لیکن بائیں آنکھ