ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 400
400 عذاب الْجَحِيمِ (المومن : ۷) اس لئے ہر اس شخص پر رحم فرما اس کی توبہ قبول فرما جو تیری طرف توبہ سے جھکتا ہے اور اس کو آگ کے عذاب سے بچا۔موجودہ دور کی بدیوں سے بچنے کا طریق یہاں ، يَوْمَئِذٍ کا معنی بھی سمجھ آجاتا ہے۔اس دعا میں فرشتے یہ عرض کرتے ہیں۔وَقِهِمُ السَّيَاتِ وَمَن تَنِي الشَّيَاتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهُ یہاں یوم سے مراد زمانہ ہے۔عام طور پر تو عقل میں یہی بات آنی چاہئے کہ جس زمانے میں بھی خدا کسی پر رحم کرے کسی کو بخش دے وہ اس نے بہت رحم کیا۔يومينی سے کیا مراد ہے؟ فرشتے یہی کہتے ہیں کہ آج تو جس کو بخش دے وہ مراد کو پہنچ گیا۔مراد یہ ہے کہ جو زمانہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں بخشا جائے اس کی کیا ہی شان ہے ؟ یہ وہ زمانہ ہے جو خدا سے رحمت طلب کرنے والا اور خدا کی طرف توبہ کے ساتھ رجوع کرنے کا زمانہ ہے۔دوسرے اس آیت کے ذریعہ ہمیں تحفتہ یعنی تو نے رحم کیا کی ایک ایسی تشریح معلوم ہوئی جو اس سے پہلے معلوم نہیں تھی۔ہم دعا کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں۔واعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَاو ارحمنا (البقرة : ۲۸۷) قرآن کریم کی یہ دعا ہے جو ہمیں سکھائی گئی۔واعْفُ عَنَّا ہم سے درگزر فرما۔واغفر لنا اور ہمیں بخش دے۔وارحمنا اور ہم پر رحم فرما۔عام طور پر دعا کرنے والا یہ سمجھتا ہے کہ رحم سے مراد یہ ہے کہ جس طرح فقیر کہتا ہے ہماری حالت زار ہے۔بھوکے ہیں۔ننگے ہیں۔کوئی دے اے رحم فرمائے۔لیکن یہاں رحم کا معنی اس سے بہت زیادہ گہرا ہے۔چنانچہ ملا یکہ اللہ نے اپنی دعا کے دوران آخر پر جا کر اس مضمون کو کھولا۔وہ عرض کرتے۔وَ مَن تَقِ الشَّيَاتِ يَوْمَئِذٍ فقد رحمته کہ اس زمانہ میں یعنی شریعت محمدیہ کے زمانہ میں جس کو تو بدیوں سے بچارے اس پر تو رحم فرماتا ہے یعنی ترے رقم کا مطلب ہے کسی کو بدیوں سے بچانا اور خصوصاً زمانہ نبوی میں جو شخص بدیوں سے بچا رہے کیونکہ سب سے آزمائشیں بدیوں کے لئے زمانہ نبوی میں مقدر تھیں۔وہی ہے