ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 399
399 سلم کو مقصود کائنات بتایا گیا ہے اور چونکہ شریعت نے ترقی کرتے ہوئے بالا خر جس طرح ارتقا انسان تک پہنچا۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم تک پہنچنا تھا۔گویا اسلام میں شریعت کا ارتقاء ہے اس پہلو سے جو پہلے لوگ تھے۔ان سب کو جو تربیت دی گئی وہ اسی طرف قدم بڑھانے کی غرض سے تربیت دی گئی اور تمام دنیا میں جہاں جہاں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے شریعت نازل ہوئی اور رحمت کے نزول ہوئے ان سب کو بالا خر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے پیدا کی جانے والی عالمی برادری کا جز بننے کے لئے تیار کیا جا رہا تھا۔پھر جس طرح درخت کو پھل لگتا ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اپنی مراد کو پہنچ گیا لیکن پھل لگنے کے بعد تو اس کی خدمت نہیں کی جاتی۔درخت کی خدمت تو بیج ڈالتے وقت بلکہ بیج ڈالنے سے پہلے شروع کر دی جاتی ہے۔جب آپ مٹی کھودتے ہیں اس کو نرم کرتے ہیں جب آپ کھاد کا انتظام کرتے ہیں اور پانی کا انتظام کرتے ہیں۔ابھی بیج بویا بھی نہیں تو یہ سب انتظام شروع ہیں پھر بیج ہوتے ہیں پھر وہ درخت بفتا ہے اور مسلسل اس کی نگہداشت جاری رہتی ہے یہاں تک کہ بالاخر وہ پھل پیدا کرنے لگ جاتا ہے۔پس حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض اگر زمانے میں بھی پہلوں کو پہنچا اور کائنات میں بھی ہر جگہ عام تھا تو یہ کوئی فرضی دعوئی نہیں ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لوْلاكَ نَمَا خَلَقْتُ الْأَخْلَاكَ : کہ اے میرے بندے اگر تجھے پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں کائنات کو پیدا نہ کرتا کیونکہ اس کائنات کا پھل تو ہے۔اس کا مقصود تو ہے۔تجھ جیسا میں نے پیدا کرنا تھا بیچ میں دوسرے بھی پیدا ہو گئے اور درخت کے پھل کے لئے لکڑی بھی تو پیدا ہوتی ہے۔پتے بھی تو پیدا ہوتے ہیں اور ان کے مختلف فوائد بھی دنیا کو پہنچتے ہیں۔تو یہ وہ معنی ہے جن معنے میں میں سمجھتا ہوں کہ فرشتے خدا سے عرض کرتے ہیں کہ اے خدا! تیری رحمت اور علم تو سب دنیا میں اب عام ہو چکی ہے۔فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ