ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 398
398 الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (المومن : ۸ تا ۱۰) اور یہ بہت ہی عظیم کامیابی ہے۔ان آیات میں دو باتیں ایسی ہیں جو میں خاص طور پر آپ کے سامنے رکھنی چاہتا ہوں۔اگرچہ ملایک کے متعلق یہ قطعی طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ بنی نوع انسان اور مومنوں کے لئے استغفار کرتے تھے لیکن حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی تمام بنی نوع انسان خصوصاً مومنوں کے لئے استغفار کرتے تھے اور چونکہ آپ بھی رحمہ العالمین تھے اس لئے جب میں یہ پڑھتا ہوں کہ ربنا دوست كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا اے ہمارے رب تو ہر چیز پر اپنی تو رحمت کے ذریعے عام ہو گیا ہے تو وہ پہلا نبی جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رحمت تمام بنی نوع انسان کے لئے عام کی گئی وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں۔اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار کا بھی اس میں ذکر ہے اور آپ کی رحمت جو تمام بنی نوع انسان پر پہنچی ہے زیادہ تر آپ کی دعاؤں کے ذریعہ پہنچی ہے کیونکہ براہ راست آپ کی تعلیم کے ذریعہ آپ کا فیض عام نہیں ہوا۔علما میں تعلیم کا ذکر ہے اور رحمة میں آپ کی برکتوں کا ذکر ہے۔پس ایک ہی نہی جس کی تعلیم بھی تمام بنی نوع انسان کے لئے عام تھی اور جس کی رحمت بھی عام تھی وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اگر چہ تعلیم تو سب جگہ نہیں پہنچ سکی اور آج بھی نہیں پہنچ سکی۔آج بھی جس ملک میں ہم بیٹھے ہوئے ہیں اس ملک کے اکثر باشندے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تعلیم سے غافل ہیں جو تمام بنی نوع انسان کے لئے تھی لیکن آپ کی رحمت ضرور پہنچی ہے اور رحمت اگلوں کو بھی پہنچی ہے اور پچھلوں کو بھی پہنچی ہے اور تمام عالم کو پہنچی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مقصود کائنات ہیں اس مضمون کو سمجھنے کے لئے آپ کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ہماری طرف سے یہ به محض دعویٰ نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ و