ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 397
397 کی حمد کرتی ہیں۔اس کی تسبیح کرتی ہیں اور پھر یہ عرض کرتی ہیں کہ اے خدا! مومنوں سے مغفرت کا سلوک فرما۔فرشتوں کی طرف زیادہ دھیان اس لئے جاتا ہے کہ یہاں اپنے لئے انہوں نے استغفار نہیں مانگی۔یہ بھی ممکن تھا اس آیت کا ترجمہ کہ خدا کے فرشتہ صفت انسان یہ دعا کرتے ہیں لیکن فرشتہ صفت انسانوں میں سب سے بڑھ کر تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تھے وہ پہلے اپنے لئے استغفار فرماتے تھے پھر مومنوں کے لئے استغفار فرماتے تھے۔چونکہ ملائکہ کو بدی کی طاقت نہیں ہے۔ان کو اختیار ہی نہیں ہے۔اس لئے وہ اپنے لئے استغفار کرہی نہیں سکتے۔ان کے لئے بے اختیاری کی بات ہے۔پس اس لئے یہاں ترجمہ یہی کرنا پڑے گا کہ ایسے فرشتے جو روحانی نظام کو چلانے والے ہیں ان کا دل بھی چاہتا ہو گا کہ ہم بھی استغفار کریں اور چونکہ ان پر استغفار اطلاق نہیں پاتا اس لئے وہ خدا کے مومن بندوں کے لئے استغفار کرتے ہیں اور استغفار اس طرح کرتے ہیں۔ربنا ويست كُل في ونَحْمَةٌ وَ عِلْمًا اے ہمارے رب! دمعت كل قمي و رَحْمَةٌ وَعِلْمًا تو نے اپنے علم اور رحمت کے ذریعے ہر چیز پر احاطہ کر لیا ہے۔تیرا علم بھی ہر چیز پر حاوی ہے اور تیری رحمت بھی ہر چیز پر حاوی ہے۔نا غوريلذِينَ تَابُوا پس ان لوگوں سے مغفرت کا سلوک فرما جو توبہ کرتے ہیں۔وَاتَّبَعُوا سَبِيلك اور جو تیرے رستے پر چلتے ہیں۔وقهم عذاب الجحيم اور ان کو آگ کے عذاب سے بچا۔رَبَّنَارُ ادْخِلُهُمْ جَنَّتِ عَدْنٍ التي وعد تهُمْ وَ مَن صَلَحَ مِن أتيهِمْ أَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّتِهِمْ ، إِنَّكَ أَنتَ العزيز الحكيم اے ہمارے رب ان کو ہمیشگی کی جنتوں میں داخل فرما دے۔وہ جنتیں جن کا تو نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے اور ان کو بھی جو ان کے آبا و اجداد میں سے اچھے لوگ تھے۔وذريتهم اور ان کی اولادوں کو بھی انك انت : الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ یقینا تو غالب علم رکھنے والا اور صاحب حکمت ہے۔وقهم الشتات : ان کو بدیوں سے بچا۔ومن تَنِي السَّيَاتِ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهُ آج اگر تو کسی کو بدیوں سے بچارے تو تو نے اس پر بہت رحم فرمایا۔وذلك هو