ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 376 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 376

376 سے نکل جاؤ۔چنانچہ اس کے مشورے پر جب آپ روانہ ہوئے ہیں تو یہ دعا کی۔رت نَجْنِي مِنَ الْقَوْمِ الطيون اے میرے رب مجھے ظالموں کی قوم سے نجات بخش۔اس میں بھی حکمت کی بڑی دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں اپنے اس گناہ سے توبہ نہیں کی گئی کیونکہ پہلے ہی خدا بخش چکا تھا۔جس کو خدا بخش دے اس پر ظالم قوم ہی حملے کی جرأت کر سکتی ہے تو فرمایا تو نے مجھے بخش دیا ہے مگر دنیا کے ظالم تو مجھے نہیں بخش رہے۔اس لئے ان ظالموں سے بھی اب مجھے نجات بخش۔چنانچہ اللہ تعالی نے آپ کو نجات بخشی اور اس سے اگلی دعا اسی تسلسل کی ہے۔اس سے آگے تین آیات بعد یعنی سورۃ القصص کی بائیسویں آیت میں یہ دعا ہے۔آپ نقني من القوم الظلمین اور آیت پچیسویں میں یہ دعا ہے۔رب إني لما انزلت ري من خير فقير اے میرے رب ! تو میری جھولی میں جو بھی خیرات ڈال دے میں اس کا فقیر ہوں۔یہ بہت دلچسپ موقعہ ہے۔حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام ہجرت کر کے مدین کی قوم کی طرف گئے جہاں حضرت شعیب کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ آپ اس وقت خدا تعالیٰ کے اس قوم کے لئے نبی تھے اور دونوں ہم عصر ہیں۔حضرت شعیب کی دو بیٹیاں تھیں۔ان کا بیٹا کوئی نہیں تھا۔حضرت شعیب کی بیٹیاں قوم کے پنگھٹ پر پانی بھرنے کے لئے آئی ہوئی تھیں اور چونکہ بہت سے مرد تھے اس لئے وہ شرما کر ایک طرف کھڑی رہیں اور انتظار کرتی رہیں کہ کب ان کی باری آئے تو وہ اپنے گھڑے بھریں۔حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام ایک دیوار یا درخت کے سائے تلے بیٹھے دیکھ رہے تھے۔آپ چونکہ بہت مضبوط قوی میکل انسان تھے اور دل میں گہری ہمدردی بھی تھی۔آپ اٹھے اور ان سے ان کے برتن لئے اور مردوں کو ہٹاتے ہوئے جاکر ان کا پانی بھرا اور گھڑے ان کے سپرد کر دیئے۔واپس آکر وہیں بیٹھ گئے اور چونکہ آپ کی عادت نہیں تھی کہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائیں۔کسی سے مدد مانگیں۔یہ احسان کا سلوک کرنے کے بعد ان کی طبیعت دعا کی طرف مائل ہوئی اور معلوم ہوتا ہے اس احسان کے نتیجہ میں دل سے یہ دعا اٹھی