ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 375 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 375

375۔تعالٰی چونکہ عالم الغیب ہے اور دل کی گہرائیوں پر نظر رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ میرے کون سے بندے نیک فطرت اور سعید ہیں اور گناہوں میں ملوث ہونے کے باوجود بچی شرمندگی کا احساس رکھتے ہیں۔وہ اس علم کے باوجود ان کو بخش دیتا ہے کہ پھر بھی گناہ کریں گے اور پھر بھی گناہ کریں گے لیکن بالآخر وہ نیک انجام ہوتے ہیں۔ان میں اور دوسرے لوگوں میں فرق یہ ہے کہ جو گناہوں پر اصرار کرتے ہیں اور ضد کرتے ہیں اور بد تمیزی سے گناہ پر جرات کرتے ہیں وہ ہمیشہ بد انجام کو پہنچتے ہیں۔لیکن بچی تو بہ کرنے والے یا تو بہ کرتے رہنے والوں کا انجام ہمیشہ نیک ہوتا ہے۔پس یہاں خدا تعالٰی نے حضرت موسی کے متعلق فرمایا کہ وہ بہت ہی نفیس طبیعت کا انسان تھا۔میں نے بغیر شرط کے اس کو بخشا لیکن اس کے دل میں بہت ہی جذبات تشکر پیدا ہوئے اس نے کہا۔قَالَ رَبِّ بِمَا أَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ أعُوْنَ ظَهِيرًا المجرمين اے خدا! تو نے بڑا احسان کیا ہے جو مجھے بخش دیا ہے۔اب میں اس کے بدلے تو بہ کرتا ہوں اور محمد کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی مجرموں کی پشت پناہی نہیں کروں گا۔حضرت موسی کی ایک اور دعا ہے۔رَبِّ تَجْرِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ القصص : (۲۲) جب اس حادثاتی قتل کی اطلاع جس کا ذکر ابھی گزر چکا ہے قوم کے بڑے لوگوں تک پہنچی تو انہوں نے مل کر مشورے کئے کہ اس شخص کو ضرور سزا دینی چاہئے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک غالب قوم تھی اور قوم کے وقار کا سوال تھا۔یہ بحث نہیں تھی کہ غلطی سے قتل ہوا ہے یا عمد ا ہوا ہے۔یہ بحث تھی کہ ایک غالب قوم کے فرد پر اگر ایک مغلوب قوم کا فرد جرم کرنے لگے تو اس سے ان کا جو سارا رعب تھا وہ جاتا رہے گا۔اس غرض سے ان لوگوں نے آپس میں مشورے کئے اور حضرت موسی کے قتل کا فیصلہ کیا۔اس وقت جب آپ ڈرتے ہوئے چھپتے ہوئے ملک چھوڑ رہے تھے کیونکہ ان میں سے ہی ایک ہمدرد انسان نے جو آپ کی سچائی کا قائل تھا اور آپ کی عزت کرتا تھا اس نے آپ کو اطلاع دی کہ میں وہاں سے آرہا ہوں جہاں تمہارے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں اس لئے بہتر ہے کہ ابھی یہاں