ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 377
377 ہے کیونکہ آپ اس دعا کے مضمون کو غور سے سنیں تو اس کے پیدا کرنے کے لئے کوئی محرک ہوا ہے۔چنانچہ وہ محرک یہ تھا کہ آپ نے بے یارو مددگار بچیوں پر ایک احسان کیا اور پھر خیال آیا کہ میں بھی تو خدا کے حضور بے یار و مددگار پڑا ہوں۔کیوں نہ خدا سے عرض کروں کہ میری مدد کرے۔چنانچہ یہ دعا بہت ہی درد ناک ہے اور بہت ہی دل پر اثر کرنے والی ہے۔ایک دفعہ انگلستان میں ایک بڑی تقریب میں جب میری تقریر ختم ہوئی تو اس کے بعد مجھ سے بعض ملنے والے آئے۔ان میں کسی ملک کی ایک شہزادی بھی تھی۔اس نے قرآن کریم کی بعض آیات سنیں تو دل پر بہت اثر ہوا تو مجھ سے اس نے کہا کہ سارے قرآن کریم میں سے کوئی ایک دعا جو آپ کو بہت پسند ہے وہ مجھے لکھ دیں میں اسے آئندہ اپنی زندگی کا وظیفہ بناؤں گی۔چنانچہ میں نے اس کو یہ دعا لکھ کر دی اور سمجھایا کہ کیوں مجھے یہ دعا پسند ہے۔اس دعا میں ہر چیز خدا پر چھوڑ دی گئی ہے۔کچھ نہیں مانگا گیا۔صرف یہ کہا گیا ہے کہ رَبِّ إِلَيَّ لِمَا أنزلت إلي من خار تقير اے خدا! میں محتاج ہوں۔تجھے پتہ ہے کہ میں کس کس چیز کا محتاج ہوں۔میں کیا کیا بتاؤں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس دعا کو ایک اور بہت ہی پیارے رنگ میں یوں عرض کیا:۔وہ دے مجھ کو جو اس دل میں بھرا ہے زبان چلتی نہیں شرم و حیا ہے زبان چلتی نہیں شرم و حیا ہے۔میں کیا کیا بیان کروں۔میں تجھ سے کیا کیا مانگوں۔حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام عرض کرتے ہیں کہ اے خدا! جو کچھ تو میری جھولی میں ڈال دے میں اس کا فقیر ہوں۔میں نہیں جاتا کیا مجھے چاہئے نہ مجھے حقیقت میں علم ہے۔چنانچہ میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بعد جو بھی احسانات کا سلسلہ ہے وہ اسی دعا کے نتیجہ میں ہے اور اس کی جڑیں اسی دعا میں ہیں۔معا بعد اس گھر میں ایک واقعہ ہوا جس گھر کی وہ بیاں تھیں ان دونوں بیٹیوں نے اپنے باپ کو یہ واقعہ سنایا کہ ایک بہت ہی نیک مرد اور اچھا تو انا مرد اس طرح بیٹھا ہوا اجنبی ہے۔اس نے نہ