ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 374
374 کے تعلق میں بھی وہی اصول بیان ہوا ہے۔قرآن کریم کی آیات میں بہت گہرے رشتے ہیں۔ایک منضبط نظام ہے۔اندر اندر تعلقات قائم ہیں اور کوئی بھی ایسی آیت نہیں جو دوسری آیات کے ساتھ گہرے تعلقات نہ رکھتی ہو۔پس اس ضمن میں مغفرت کا مفہوم اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے جس کے نتیجہ میں جب بھی بخشش کی دعا کی جائے تو دل میں یہ نیت ہونی چاہئے کہ اگر اللہ بخشش کا سلوک فرمائے گا تو اس کے بعد میں بھی انبیاء کی سنت پر چلتے ہوئے اس کے شکریہ کا اظہار اس رنگ میں کروں گا جس رنگ میں پاک لوگوں کی سنت چلی آئی ہے۔اب یہ سوال ہے کہ پھر خدا بار بار ایسے لوگوں کو کیوں بخشتا ہے جو بار بار جرم کرتے ہیں۔باوجود اس کے کہ ہمیں منع کرتا ہے کہ جرم کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی۔اگر بخشش کے نتیجہ میں حرم سرزد ہو تو پھر نہیں بخشا۔میں نے اس مضمون پر گہرائی سے غور کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میں اس مسئلے کو صحیح حل کر سکا ہوں۔جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے خدا تعالی کی مغفرت ایسے گنہگاروں سے بار بار ہوتی ہے جن کے دل میں شرم یقینا پیدا ہوتی ہے۔بخشش کے نتیجہ میں جرم کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔واقعی تائب ہوتے ہیں۔بہت شرمندہ ہوتے ہیں۔علیحدگی میں خدا کے حضور روتے ہیں۔گریہ و زاری کرتے ہیں۔اے خدا ہمیں بخش دے ہم سے غلطی ہوئی۔بہت گنہگار ہیں کمزور ہیں۔اور پھر اس کے بعد کمزوری غالب آجاتی ہے۔ایسے لوگوں کا معاملہ ہرگز وہ نہیں ہے جن کے ساتھ آپ حسن سلوک کریں اور وہ گناہوں پر شیر ہوتے چلے جائیں۔ہر گھر میں ایسے بچے دیکھے گئے ہیں۔بعض مائیں ان کو بگاڑ دیتی ہیں اور وہ اتنے بدتمیز ہو جاتے ہیں کہ آنے والے مہمانوں کا بھی ناک میں دم کر دیتے ہیں۔ان گھروں میں جانا ایک مصیبت بن جاتی ہے۔کیونکہ وہ ہر جرم کے بعد اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔کوئی بات نہیں۔کوئی حرج نہیں۔ٹھیک ہے سب کچھ۔یہ وہ مضمون ہے جس کو قرآن کریم بیان فرما رہا ہے کہ اگر مغفرت کرنی ہے تو ایسے شریف النفس لوگوں کی مغفرت کرو جن کے اوپر نیک اثر پڑے۔یہ لازم نہیں ہے که اسی وقت وہ توبہ کرلیں لیکن اصلاح کی طرف میلان ضرور رکھتے ہوں۔پس اللہ