ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 373 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 373

373 چلا جاتا ہے۔یہ تو اس کی مغفرت کے ساتھ تعلق رکھنے والی بات ہے لیکن اگر آپ دعا کی قبولیت کا راز سمجھنا چاہیں۔یعنی وہ معاملہ جو خدا اور انبیاء کے درمیان ہوتا ہے تو وہاں اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ خاص رحمت کا سلوک اس لئے فرماتا ہے۔ان کی دعائیں بہت زیادہ قبول کرتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ ناشکرے نہیں ہیں۔میری طرف سے ہر احسان کے بعد یہ پہلے کی نسبت احسان کا بہت زیادہ بخشش مانگنے کے ذریعے بدلہ اتارنے کی کوشش کریں گے۔اللہ تعالٰی کے احسان کے مقابل پر تو احسان نہیں ہو سکتا لیکن اس کے سامنے زیادہ جھک کر اور اس کے احسانات میں ڈوب کر اور بار بار اس کی حمد کے گیت گا کر ایک رنگ میں انسان احسان کا اعتراف کرتا ہے۔پس ایسے لوگوں کے ساتھ اللہ تعالٰی کا مغفرت کا زیادہ سلوک ہوتا ہے اور ان کی دعائیں بھی عام لوگوں کی نسبت زیادہ مقبول ہوتی ہیں۔پس مغفرت پر بھی سہارا ہو سکتا ہے لیکن بسا اوقات محض مغفرت پر سہارا نہیں لیا جا سکتا اور عادت کو ایسا درست کرنا ضروری ہے کہ جس کے نتیجہ میں دعائیں قبول ہوں اور اسی مضمون کو قرآن کریم نے ہمارے انسانی تعلقات کے سلسلہ میں ایک اور رنگ میں بیان فرمایا۔فرمایا۔جب کوئی تمہارا گناہ کرتا ہے۔جب کوئی تم پر زیادتی کرتا ہے تو تمہارا حق ہے کہ تم بدلہ لو جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے کہ وہ ہمیں گناہوں کی سزا دے لیکن فمن عفار أصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ (الشوری :۴۱) جو مغفرت کرے بشرطیکہ اس کی مغفرت اصلاح کا موجب ہے۔جرم کی حوصلہ افزائی کا موجب نہ بنے اس کا اجر خدا کے ہاں ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس مضمون میں قبولیت دعا کا بہت گہرا راز بھی بیان فرما دیا۔جب خدا نے ہمیں یہ نصیحت فرمائی کہ تمہیں کھلی بخشش کی اجازت نہیں ہے۔اگر تمہاری بخشش کے نتیجہ میں گناہ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے تو نہیں بخشا۔لیکن اگر اصلاح پیدا ہوتی ہے اور انسان اس بخشش کے شکر کے نتیجہ میں اپنی حالت تبدیل کرتا ہے تو اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ پھر ایسے شخص کی بخشش باعث اجر ہے اور یقیناً خدا کے پاس اس کا اجر محفوظ ہے۔پس وہی بات ہے جو یہاں کی جا رہی ہے۔انسان T