ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 372 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 372

372 سے توبہ کی تھی۔اس سے جو پہلا فعل سرزد ہوا تھا وہ بھی اس کے نزدیک ایک ظلم تھا اور واقعی ظلم تھا لیکن حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام جس ظلم سے توبہ کر رہے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ آپ نے ایک ہم قوم کو ایک ظالم قوم کے ہاتھوں مار کھاتے ہوئے دیکھا تو اس کی مدد کے لئے آگے بڑھے۔آپ یہ سمجھتے تھے کہ یہ مخص مظلوم ہے اور طاقتور قوم کا فرد اس پر ظلم کر رہا ہے۔کیونکہ آپ بہت طاقتور تھے۔آپ نے جب اس کو مکہ مارا تو ایسی جگہ لگ گیا مثلاً بعض دفعہ کنپٹی پر لگ جاتا ہے یا کسی اور نازک جگہ پر کہ اس سے انسان کی جان بھی نکل جاتی ہے تو قرآن کریم کے بیان کے مطابق حضرت موسی نے جب مکہ مارا تو اس کا وقت آگیا تھا۔اس نے دم توڑ دیا اور اس وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام ڈرتے رہے اور توبہ کرتے رہے۔چنانچہ آپ نے عرض کیا۔رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْنِ اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔پس مجھے بخش و فَخَفَرلَهُ ، إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (القصص: ۱۷) اللہ تعالیٰ نے یقیناً اس کو بخش دیا اور وہ بہت ہی بخشنے والا اور بار بار رحم فرمانے والا ہے۔اس کے بعد حضرت موسی نے ایک عرض کی- قال رَبِّ بِمَا انْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَن أَعُوْنَ ظَهِيرًا المجرمين (القصص: ۱۸) اے میرے رب! تو نے چونکہ مجھ پر انعام فرمایا ہے۔بخشش کا سلوک فرمایا ہے۔پس مجھے پر شکر واجب ہے اور میں یہ اقرار کرتا ہوں کہ آج کے بعد کبھی مجرموں کی مدد نہیں کروں گا۔اس میں ہر دعا کرنے والے کے لئے ایک پیغام ہے۔ہم جب دعا کرتے ہیں تو بسا اوقات یہ سوچتے ہیں کہ فلاں کی دعا قبول ہو گئی ہماری نہیں ہوئی۔حالانکہ دعا کی قبولیت میں بھی ایک بہت ہی لطیف نظام عدل جاری ہے۔وہ لوگ جو قبولیت دعا کے بعد اس کا شکر ادا کرنا جانتے ہیں۔دعا کی قبولیت کے بعد ان پر جو تقاضے عائد ہوتے ہیں ان کا حق ادا کرنا جانتے ہیں، ان کی دعائیں اللہ تعالی زیادہ سنتا ہے۔لیکن ضروری نہیں کہ صرف انہی کی دعائیں سنی جائیں۔بعض دفعہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایک شخص جن گناہ میں ملوث ہے پھر ہو گا، پھر ہو گا اور پھر ہو گا۔پھر بھی بخشتا