ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 371 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 371

371 کہنا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں یہ بھی ایک ظلم ہوا کرتا ہے۔تو وہ سمجھ گئی کہ حضرت سلیمان کو اب میری حقیقت کا علم ہو چکا ہے۔آپ جانتے ہیں کہ ابھی میں نے تعلیم درضا کی راہیں طے کرتی ہیں اس لئے اس سے پہلے جو میں نے حضرت سلیمان پر یہ اثر ڈالا تھا کہ گویا میں تو پیغام سنتے ہی مسلمان ہو گئی تھی یہ مجھ سے غلطی ہوئی اور میں اس سے تو بہ کرتی ہوں۔وَاسْلَمْتُ مَعَ سُلیمن اور اس دفعہ اس نے بہت ہی عمدہ الفاظ میں اپنے ایمان کو بہت اعلیٰ رنگ میں پیش کیا ہے کہ اب جو میرا ایمان ہے وہ وہی ہے جو سلیمان" کا ہے اور جیسا کہ سلیمان کے ایمان میں کوئی رخنہ نہیں ہے کوئی گدلا پن نہیں ہے، اسی طرح اب اے میرے خدا تو میرے ایمان کو بھی قبول فرما لے رب العلمين " جو تمام جہانوں کا رب ہے۔پس یہ دعا بھی انسان کو بعض مواقع پر کام دیتی ہے۔کئی قسم کے ظلم انسان کرتا ہے۔اگرچہ آجکل ویسا شرک تو نہیں جیسے پرانے زمانوں میں پایا جاتا تھا یا اب بھی بعض جگہوں میں پایا جاتا ہے لیکن بسا اوقات انسان اپنے نفس کو معبود بنا لیتا ہے۔اپنی خواہشوں کو معبود بنا لیتا ہے جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا تو ہر ایسے موقعہ پر جبکہ سہو آ بھی غلطی ہو انسان کو ایسی دعا کرنی چاہئے جس کا تعلق شرک سے سچی توبہ اور حقیقت اسلام کو پالینے سے ہے۔ایک دعا حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام کی ہے یہ سورۃ القصص آیت ۷ اسے اے لی گئی ہے۔وہ عرض کرتے ہیں۔آتِ اللَّهِ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْنِ ربِّ میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا پس مجھے بخش دے۔یہاں ظلم کا معنی وہ نہیں ہے جو اس سے پہلے گزر چکا ہے۔یہاں ظلم سے مراد ایک ایسا واقعہ ہے جس میں حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام معصومانہ ملوث ہو گئے تھے۔پس جب ایک عام انسان ظلم کا لفظ استعمال کرتا ہے تو اس کے معانی زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔بعض دفعہ واقعی اس سے بڑا ظلم سرزد ہوا ہوتا ہے لیکن اگر ایک نبی یا ولی خدا تعالیٰ کے سامنے عاجزی سے یہ کہتا ہے کہ میں نے ظلم کیا تو اس کو ان معنوں میں نہیں لیتا چاہئے۔مثلاً ملکہ سبا کا ظلم ابھی گزرا ہے۔وہ واقعی ایک مشرکہ تھی۔اس نے شرک