ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 370 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 370

370 حقیقت میں ان کو ابھی اسلام کا علم نہیں۔اسلام لانے اور اسلام میں ترقی کرنے میں ایک فرق ہے۔پس حضرت سلیمان نے اس کا ایک امتحان لیا اور امتحان ہی نہیں بلکہ اس امتحان کے ذریعہ ایک پیغام دیا۔آپ نے اسے ایک ایسے کمرے میں ملاقات کا وقت دیا جس کا فرش شیشے سے جڑا ہوا تھا اور دیکھنے والے کو دھو کہ لگتا تھا کے یہ پانی ہے شیشہ نہیں ہے۔چنانچہ ملکہ جب اس میں داخل ہوئی تو اس نے اپنے کپڑے بے اختیار اسی طرح سمیٹ لئے جس طرح پانی میں داخل ہوتے وقت ہر انسان طبعا اپنے کپڑے سمیٹتا ہے۔اس پر جب اس کو احساس ہوا کہ کیا غلطی ہوئی ہے تو پھر وہ سمجھی کہ دراصل مجھے یہ پیغام ہے کہ یہ جو ظاہری چمک ہے یہ کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔اس کے پیچھے ایک اور پیغام ہے اور وہ خدا تعالیٰ ہے۔پس صنعت کی چمک دمک سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے۔جب یہ پیغام اس کو ملا تو ر حقیقت وہ توحید کی دوبارہ قائل ہوئی ہے اور دل کی گہرائی سے قائل ہوئی ہے۔چنانچہ اس واقعہ کے معا بعد اس نے یہ اظہار کیا ہے۔اس سے پہلے آیت میں - ہے کہ فلماراته حَسِبَتْهُ لَجَةٌ والفتْ عَن سَاقَتِهَا ، قَالَ إِنَّهُ صَرَهُ مُمَرِّدُ من قوارير (النمل: (۴۵) جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تو وہ کبھی کہ یہ ایک چمکتا ہوا شفاف پانی ہے۔وكشفت عن ساقيها ، اس نے اپنے ، لیاس کو اٹھایا یہاں تک کہ اس کی پنڈلیاں ننگی ہو گئیں۔قَالَ اِنَّهُ صَدَعُ مُمَزِّه اس پر حضرت سلیمان نے فرمایا کہ یہ تو جڑاؤ شیشہ ہے۔اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔مین قوال تیر شیشے کے جڑاؤ ٹکڑوں سے بنا ہوا ہے۔تب اس نے دعا کی۔قَالَتْ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔یہاں ظلم کے معنی دو طرح ہیں۔ایک تو ظلم اور شرک کو قرآن کریم نے ہم معنی قرار دیا ہے اور چونکہ وہ مشرک قوم سے تعلق رکھتی تھی اور حقیقت میں اب اس کو توحید کا سچا علم ہوا تھا اس لئے ظلمت کے معنی یہ ہیں کہ اس سے پہلے میں ایک مشرکانہ زندگی بسر کرتی تھی۔میں اس سے توبہ کرتی ہوں۔دوسرے ظاہر داری کی باتوں میں یا محض دوسرے کو خوش کرنے کے لئے یہ اے میرے