ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 34 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 34

34 کو تم دیکھتے نہیں ہو اور دیکھ سکتے نہیں ہو تو امر واقعہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسے پردے بنا رکھے ہیں یعنی ظاہری دنیا میں بھی وہ پر دے بنے ہوئے ہیں جن کو ہم دیکھ نہیں سکتے۔WAVELENGTHS بدلنے کے نتیجے میں ایک پردہ بن گیا۔آپ خاص قسم کی آوازیں سنتے ہیں بعض دوسری قسم کی آوازیں سن ہی نہیں سکتے ورنہ اگر سنتے تو اپنی آوازیں سننے کے بھی اہل نہ رہتے۔اس قدر طاقت ور آوازیں ہیں۔اتنا زبردست شور ہے کہ پردوں کے پر خچے اڑ جائیں۔پس خدا تعالٰی نے پردے رکھے ہوئے ہیں حفاظت کی خاطر لیکن بد نصیب لوگ وہ ہیں جو ان پردوں کے نتیجے میں حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔روحانی دنیا میں پردے بنانے کے مقاصد خدا تعالیٰ نے جو پردے بنائے ہیں وہ خاص مقاصد کے لئے بنائے ہیں۔اب روحانی دنیا میں بھی جب ہم پردوں کی بات کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے قائم کئے ہوئے پر دے کچھ مصالح رکھتے ہیں لیکن بد نصیب لوگ ان پردوں کے نتیجے میں حق بات سے محروم رہ جاتے ہیں۔پردے خدا تعالیٰ نے اس لئے انسان کو عطا کئے تاکہ گندی باتوں سے بچے ، لغو باتوں سے بچے ان چیزوں سے بچے جو خدا سے دور لے جاتی ہیں۔یہ پر دے بنانے کی حکمت تھی، اس لئے بنایا تو خدا ہی نے ہے مگر انسان جب چیزوں کا غلط استعمال کرنے لگتا ہے تو وہ چیز جو فائدے کی خاطر بنائی جاتی ہے وہ نقصان کا موجب بن جاتی ہے۔پس جہاں بھی آپ یہ پڑھتے ہیں کہ ہم نے ایسا کیا۔ہم نے پردے بنائے۔ہم نے فاصلے حائل کئے روکیں پیدا کیں تو نعوذ باللہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالٰی نے شر پہنچانے کے لئے ایسا کیا۔مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے قانون نے بعض مصلحتوں کی وجہ سے بعض چیزیں بنا رکھی ہیں۔بعض روکیں پیدا کرنے کی صلاحیت انسان کو بخشی ہے۔آنکھیں بند کر سکتا ہے یہ بھی اس کی ایک نعمت ہے اگر انسان آنکھیں بند نہ کر سکتا تو اس کا نظام عصبی تباہ و برباد ہو جاتا۔اس کو نیند نہیں آسکتی تھی اور ہر وقت کی آنکھیں کھلی ہوئی تو ایک عذاب ہے۔اب دیکھیں آنکھیں بند کرنا ایک نعمت کے طور پر دیا گیا تھا مگر آپ اگر روشنیوں سے آنکھیں بند کرلیں اور جگہ جگہ ٹھوکریں کھاتے پھریں اور ایک مصیبت میں مبتلا رہیں تو معمولی روز مرہ کی زندگی آپ