ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 35
35 کے لئے عذاب بن سکتی ہے۔ایک دفعہ ہم نے سیر کرتے ہوئے یہ مقابلہ کیا کہ آنکھیں بند کر کے کون سیدھا چل سکتا ہے تو آنکھیں بند کر کے چلتا ہی اول تو بڑا مشکل ہے بہت بڑی مصیبت ہے۔آدمی کا بیلنس بگڑ جاتا ہے۔دوسرے رخ کا پتہ ہی نہیں چلتا۔چنانچہ میں اور میری بچیاں ساتھ تھیں ہم نے کہا کہ ہم آنکھیں بند کر کے سیدھے چلنے کی کوشش کرتے ہیں، میں نے کہا جب آواز دوں گا ”ہاں تو اس وقت آنکھیں کھولنا۔تو جب میں نے آواز دی تو کوئی کسی طرف نکلا ہوا تھا کوئی کسی طرف نکلا ہوا تھا اور کوئی اس سے پہلے ہی کسی جگہ ٹھو کر کھا کے سفر بند کر چکا تھا تو اب آنکھیں بند کرنا ایک نعمت ہے مگر غلط جگہ آنکھیں بند کرنا تو نعمت نہیں۔وہ تو ایک مصیبت بن جاتی ہے۔روز مرہ زندگی انسان نہیں گزار سکتا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے پر دے بنا رکھے ہیں جو خاص مقاصد کے لئے بنائے گئے ہیں مگر یہ بد نصیب ایسے ہیں کہ پردے غلط جگہوں پر استعمال کرتے ہیں۔بعض پہلوؤں سے وہ تیز نظر رکھتے ہیں۔بعض پہلوؤں سے کچھ بھی نہیں دیکھ سکتے۔بد نصیبی سے ایسے پردے مسلمان علماء کی آنکھوں پر بھی ہیں۔وہ بعض چیزیں نہیں دیکھ سکتے اور عجیب حالت ہے کہ جس قرآن کریم نے یہ عظیم راز ہمیں سمجھائے ایسے عظیم راز جو دنیا کی کسی اور کتاب میں نہیں ملتے وہ مسلمان خدا کی کائنات کی تخلیق پر غور کرنے سے عاری رہے۔ایک دور تھا چند سو سال کا یعنی بغداد میں جب اسلامی مملکت کا مرکز تھا جس میں سائنس دانوں نے بڑی ترقی کی ہے اس میں کوئی شک نہیں مگر وہ ماضی کی بات بن چکی ہے۔اب ان چیزوں پر غور کے لئے مسلمانوں کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور غیر کھولتے ہیں لیکن مسلمان ذکر کی طرف تو بہر حال مائل ہوتے ہیں لیکن یہ لوگ ذکر کی طرف مائل نہیں ہوتے۔کسی نے آنکھ پر ایک پردہ گرا رکھا ہے۔کسی نے دو سرا پردہ گرا رکھا ہے اور جہاں تک دلوں کی کیفیت کا تعلق ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دلوں پر تو ہم نے کئی قسم کے پردے بنا رکھے ہیں۔ایک نہیں بہت سے پردے ہیں جو حائل ہو جاتے ہیں۔یہ جو مضمون ہے اس سے متعلق میں پھر انشاء اللہ کسی وقت بیان کروں گا۔اب وقت زیادہ ہو رہا ہے۔میں اب دوسری آیت کی طرف آگر آپ کو مختصرا اس کا پہلی آیت سے تعلق بنا کر دکھاتا ہوں۔یعنی تعلق تو ہے لیکن دکھانا