ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 33 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 33

33 مختلف مقدمے بن گئے۔کوئی بجلی کی کمپنی پر بن گیا۔کوئی کمیٹی پر بن گیا کہ تم نے سیوریج غلط طریقے سے گزارا ہے اس سے ہماری نیند حرام ہو گئی ہے۔یہ مقدمے ابھی چل ہی رہے تھے کہ ایک سائنس دان نے تحقیق کی اور اس نے اس کی وجہ معلوم کرلی اس علاقے میں ایک خاص قسم کی مچھلی پائی جاتی ہے جو سارا دن خاموش رہتی ہے اور ساری رات آوازیں نکالتی ہے اور ان آوازں کے ذریعہ مچھلیاں رات کو ایک دوسرے کو پیغام دے رہی ہوتی ہیں کہ ہم یہاں ہیں یہاں آجاؤ۔چنانچہ اس نے اسی قسم کی ایک آواز ریکارڈ کی یعنی خود بنا کر اور سمندر کے اندر ایک لاؤڈ سپیکر جس پر پانی اثر نہیں کرتا وہ لٹکایا اور کیمرے مقرر کئے جو اس کی تصویریں کھینچیں تو جب وہ وہی آواز نکالتا تھا تو اس لاؤڈ سپیکر کے گرد بڑی تیزی کے ساتھ وہ مچھلیاں حملہ کر کے آئی تھیں اور اس وقت پتہ چلا کہ یہ ہیں آواز نکالنے والی مچھلیاں۔سمندر کے اندر وہ آواز بہت ہی زیادہ شدت سے محسوس ہوتی ہے لیکن وہ اتنی قوی آواز تھی کہ سمندر کے باہر بھی سنائی دیتی تھی۔یہ عام طور پر نہیں ہوتا لیکن سمندر کے اندر تو بعض مچھلیوں کی آوازیں اتنی طاقت کے ساتھ حرکت کرتی ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے تین تین سو میل دور باتیں کر لیتی ہیں چنانچہ سائنس دانوں نے اب باقاعدہ تحقیق کر کے عملاً " تین تین سو میل بلکہ بعض صورتوں میں اس سے بھی زیادہ دور ان مچھلیوں کی آوازیں پکڑی ہیں اور ان کو حل کیا ہے اور معلوم کیا ہے کہ یہ اس طرح پیغام دیتی ہیں تو سمندر کے نیچے بھی پھر وہ DAVID ATTENBOROUGH چلا جاتا ہے آوازوں کے آلوں کے ساتھ اور وہاں ایک عجیب کائنات خدا کی دکھائی دیتی ہے۔اس قدر شور بپا ہے۔اس قدر ہنگامہ ہے کہ بظاہر ہمارے کان کچھ بھی نہیں سن رہے۔کوئی آواز نہیں آرہی لیکن سمندر کی دنیا اس طرح بول رہی ہے اس طرح باتیں کر رہی ہے کہ جس طرح ہمارے ہاں کہتے ہیں نا چھی ھٹے میں چلے جاؤ تو شور و غل بپا ہوا ہوتا ہے کچھ سمجھ نہیں آتی کہ کوئی کیا کہہ رہا ہے۔اگر ان سب کی آوازیں انسان سمجھنے لگے اور انسان سنے لگ جائے تو سمجھنا تو درکنار اس کے کان کے پردے پھٹ جائیں کیونکہ اتنی طاقت در آوازیں ہیں کہ انسان انکا متحمل ہی نہیں ہو سکتا۔پس اللہ تعالیٰ جب فرماتا ہے کہ ہم نے کانوں پر پردے ڈالے ہیں جن