ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 32 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 32

32 (PITCH) ان کی بہت سی اور چیزیں ان کو ایک دوسرے سے مختلف بھی کر دیتی ہیں اور آوازوں کے ایک شور میں جہاں بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہر آواز ایک دوسرے سے مل گئی ہے وہاں ان کی آواز میں اپنی خاص ادا کے ساتھ اپنی خاص خصوصیت کے ساتھ ان کے ہم جنسوں کو پہنچ رہی ہوتی ہیں۔پس بعض دفعہ وقفوں سے فائدہ اٹھا کر ، بعض دفعہ آواز کی قسموں کی صلاحیت کی بناء پر یہ بے انتہاء شور میں بھی ایک دوسرے سے گفت و شنید کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ پھر بعض پرندے بعض دوسری آوازوں کو ساتھ شامل بھی کر لیتے ہیں چنانچہ غالبا" ساؤتھ امریکہ کا ایک خاص قسم کا طوطا ہے وہ جب ایک درخت پر قبضہ جماتا ہے اور یہ اعلان کرنا چاہتا ہے کہ یہ درخت میرا ہو گیا ہے اور کوئی طوطا اب ادھر نہ آئے تو نہ صرف یہ کہ وہ خاص قسم کی آواز میں نکالتا ہے بلکہ ایک لکڑی توڑ کر ڈھول کی طرح درخت کے ساتھ بجاتا بھی ہے اور اس میں ایک روم ہے اس میں ایک نعمگی پائی جاتی ہے۔یوں ہی بے ہنگم طریق پر نہیں مارتا بلکہ اپنی آواز کے ساتھ ملا کر گویا ڈھول بھی بج رہا ہے اور ساتھ ساتھ اعلان بھی ہو رہا ہے کہ یہ درخت میں نے قبضہ کر لیا ہے اب کوئی ادھر نہیں آئے گا۔پھر سمندر کے اندر جو مختلف آواز میں پیدا ہو رہی ہیں وہ اگر باہر اسی قوت کے ساتھ سنائی دینے لگیں تو انسان کی زندگی حرام ہو جائے۔ایک دفعہ سان فرانسسکو میں بعض لوگوں نے جو بہت بڑے بڑے امیر تھے انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم HOUSE BOAT میں رہا کریں زیادہ مزا آئے گا یعنی جس طرح کشمیر میں رواج ہے ڈل جھیل میں کشتیوں کے گھر بنے ہوئے ہوتے ہیں اس کو HOUSE BOAT کہتے ہیں تو انہوں نے بہت ہی عظیم الشان اور عیاشی کے تمام سامانوں سے مرصع کر کے ایسے کشتیوں کے گھر بنائے اور ان میں رہنے لگے لیکن ان کو چین نصیب نہ ہوا کیونکہ ساری رات اتنی خوفناک آوازیں آتی تھیں کہ دل دھل جاتے تھے اور آوازوں کی قسمیں ایسی تھیں جس سے وہ سمجھتے تھے کہ شاید بجلی والوں نے جو CARLES بچھائی ہیں ان سے کوئی مقناطیسی لہریں اٹھتی ہیں جو بعض دوسروں سے یں سے ٹکرا کر یہ آواز پیدا کرتی ہیں۔بعضوں کا خیال تھا کہ سیوریج والوں نے اس طریق پر گندا پانی قریب سے گزارا ہے کہ اس سے یہ گونج پیدا ہو رہی ہے۔چنانچہ