ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 354
354 ہوں۔پس تو ہی ہے جو مجھے اپنی اس چھوٹی سی زندگی میں اپنے شکریے کا حق ادا کرنے کی توفیق بخش سکتا ہے۔شکر نعمت کی توفیق خدا ہی سے مانگیں ان باتوں کو سوچتے ہوئے، اس سارے پس منظر کو دماغ میں رکھتے ہوئے اگر ہم میں سے ہر ایک چھوٹا بڑا خدا کی نعمتوں پر غور کرے اور عاجزانہ طور پر یہ عرض کرے کہ اے خدا! جو کچھ تو نے مجھے دیا ہے اس پر مجھے توفیق بھی دے کہ میں تیرا سچا شکریہ ادا کروں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا اگر کوئی ڈوبتے کو بچاتا ہے اور بعد میں اس شخص کا کوئی بچہ ڈوب رہا ہو یا اس کا کوئی پیارا مشکل میں ہو تو اس کو دیکھ کر وہ شخص جس کو بچایا گیا وہ آنکھیں پھیر کر چلا جائے تو یہ ناشکری ہوگی، یہ ظلم ہوگا۔اس کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ جب اس کو بچایا گیا تھا تو اس نے بچانے والے کو شکریہ کہہ دیا۔پس اللہ کو تو ہم نعوذ باللہ کسی شکل میں احسان کا بدلہ براہ راست نہیں دے سکتے۔وہ تو ساری کائنات کا پیدا کرنے والا ہر چیز کا مالک وہ ہمیں زندگی عطا کرنے والا ، ہمیں سب نعمتیں عطا کرنے والا ہم اس کا شکریہ کس طرح ادا کریں۔ایک ہی رستہ ہے کہ اس کے رستے پر خرچ کریں۔ان بندوں پر احسان کریں جو خدا کے بندوں پر ہوں اور نہیں خدا اس احسان کا موقعہ عطا کرے۔پس اس دعا نے ہمیں حکمت کی بہت کچھ باتیں سکھائیں۔اب آپ دیکھ لیجئے خدا کے بہت سے بندے تکلیف میں ہیں۔کئی قسم کی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ہم یہاں ایک سکول دیکھنے گئے تھے جو ایک ڈچ نیک دل انسان نے قائم کیا تھا اور اب بڑھتے بڑھتے کافی ترقی کر گیا ہے۔اس میں معذور بچے ہیں جن کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔جن کو اس قابل بنانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ زندگی میں ایک عزت والا مقام حاصل کر سکیں اور کسی کی محتاجی کے بغیر اپنا گزارا کر سکیں۔یہ بہت نیکی کا کام ہے جو احمدی ہے اس کے اوپر تو ہر دوسرے سے بڑھ کر یہ فرض ہے کہ وہ خدا کا شکر ادا کرنے کے لئے ایسے لوگوں پر احسان کرے۔جب ہم میں سے کسی کے ہاں کوئی معذور بچہ پیدا ہو جاتا ہے تو ایسا شخص اگر بد قسمت ہو تو بعض دفعہ خدا پر باتیں بنانے لگ جاتا ہے۔وہ