ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 353 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 353

353 کا شکریہ اس کے رنگ میں ادا ہوا کرتا ہے۔ایک شخص کو اللہ نے علم عطا کیا ہے وہ اپنے علم سے پیسے کما بھی سکتا ہے اور پیسے لگا کر اپنے علم سے لوگوں کو فائدہ پہنچا بھی سکتا ہے۔علم تو وہی ہے جو خدا نے دیا ہے بعض لوگ اس کو صرف تجارت کے لئے استعمال کرتے ہیں۔بعض اس علم کو خدا کی خاطر اس کے بندوں پر خرچ کرتے ہیں اور اس کے لئے وہ تکلیف بھی اٹھاتے ہیں اور خود اپنی جان پر ان کو خرچ کرنا پڑتا ہے تو ان دونوں چیزوں میں دیکھیں کتنا فرق ہے۔پس قرآن کریم نے جو ہمیں سکھایا : دمعاً رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ کہ جو کچھ ہم ان کو عطا کرتے ہیں یا جو کچھ ہم نے ان کو دیا اس میں سے وہ خرچ کرتے چلے جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت سلیمان" نے یہ دعا کہ تو آپ کی دعا کے پیچھے بہت بڑا مضمون تھا کیونکہ حضرت سلیمان کو خدا نے بہت کچھ دیا تھا۔اتنی حکمت دی تھی کہ دنیا کے پردے پر کبھی کسی انسان کو اس زمانے میں وہ حکمت نہ ملی اور ساری دنیا میں آپ کی حکمت کی باتیں اس وقت بھی شہرت پا گئیں اور آج تک حضرت سلیمان علیہ السلام کو عظیم الشان فلسفی ، حکیم ، ایک دانشور ایک دانا انسان کے طور پر دنیا جانتی ہے۔پس حکمتوں کا شکریہ کیسے ادا کریں جب تک حکمتوں کے موتی نہ بکھیریں، جب تک ساری دنیا کو اپنی حکمتوں سے فائدہ پہنچانے کی کوشش نہ کریں۔پھر بادشاہت وہ عطاء کی جس کی کوئی مثال یہودی تاریخ میں نہیں ملتی نہ پہلے نہ بعد میں، اس زمانے سے آج تک کبھی کسی کو ایسی شاندار دنیاوی بادشاہت نہیں ملی جیسی خدا کے اس پاک نبی کو دنیاوی بادشاہت ملی اور پھر روحانی بادشاہت بھی عطا ہو گئی۔نبی بنائے گئے، اس سے بڑھ کر اور کیا نعمت ہو سکتی ہے تو یہ ساری باتیں حضرت سلیمان کے ذہن میں تھیں اگر چہ اس سے پہلے آپ کے باپ حضرت داؤد کو بھی نعمتیں ملی تھیں مگر جو شان و شوکت یہود کی سلطنت کو حضرت سلیمان کے زمانے میں عطا ہوئی ویسی اور کبھی کسی کو عطا نہیں ہوئی۔اب اس کو دوبارہ پڑھیں تو پھر آپ کو سمجھ آئے گی کہ کیوں عاجزی کے ساتھ خدا کے حضور گر کرمنت کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ اے خدا تیری نعمتیں تو میری حد سے بڑھ گئی ہیں۔کس طرف دیکھوں جہاں تیری نعمت نہیں۔کس بات پر غور کروں جہاں مجھے تیرے احسان نہ دکھائی دیتے