ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 355
355 کہتا ہے اللہ تعالٰی نے مجھ پر ہی ظلم کرنا تھا اور ساری دنیا رستی بستی ہے اس کو تو تکلیف نہیں پہنچی اور مجھے خدا نے چن لیا۔یہ اس کی جہالت ہے جو کچھ خدا نے دیا ہے اس میں سے تھوڑا سا نہ دینے پر اتنی تکلیف ہو، اتنا جزع فزع اور خدا پر اتنی باتیں بنانا یہ نہ دیکھنا کہ اس نے جو دیا ہے وہ بہت زیادہ ہے اور مالک ہے اگر وہ بھی واپس لے لے جو دے چکا ہے تو کسی کا کوئی بس نہیں۔دوسرے ان باتوں پر غور کرنے سے اگر وہ بچے دل سے غور کرتا تو اس کو بہت بڑی حکمت سمجھ آجاتی۔اللہ تعالی جن کو دیتا ہے ان کی آزمائش بھی کرتا ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ جن کو میں نے عطا کیا ہے وہ میرے شکریہ کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نہیں۔خدا تو نعوذ باللہ لولا لنگڑا نہیں ہو سکتا۔خدا تو بے نور نہیں ہو سکتا۔آپ کو آنکھیں عطا ہوئیں تو اگر بے آنکھوں والوں کی خدمت نہ کریں گے تو خدا کا شکریہ کیسے ادا کریں گے ؟ اگر ہاتھ پاؤں عطا ہوئے اور دنیا میں اگر کوئی لولا لنگڑا نہ ہوا اور اس کی خدمت کا آپ کو موقعہ نہ ملے تو کیسے خدا کا شکریہ ادا کریں گے۔پس دنیا میں آزمائشوں کا جو نظام چل رہا ہے، اگر غور کیا جائے تو دراصل ایک ہی رستہ ہے جس رستے سے خدا کے شکر گزار بندے اپنے رب کا شکر ادا کر سکتے ہیں اور یہ جو مضمون ہے یہ ہمیں حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے سکھایا ہے۔آپ نے ہمیں معرفت کی یہ بات سمجھائی ہے کیونکہ ایک موقعہ پر آپ نے فرمایا۔یہ ایک حدیث قدسی ہے یعنی ایک حکایت کے رنگ میں ایک بیان ہے کہ خدا تعالیٰ کے سامنے کوئی بندہ پیش ہو گا تو وہ اسے کہے گا کہ دیکھو میں بھوکا تھا اور بہت تکلیف میں تھا تو نے مجھے روٹی نہ کھلائی اور پھر کے گا کہ میں بغیر کپڑوں کے تھا، میرے بدن پر گرمی سے بچنے کے لئے اور سردی سے بچنے کے لئے کچھ نہیں تھا تجھے توفیق تھی تو نے میری کچھ خدمت نہ کی تو نے مجھے کپڑے نہ پہنائے۔میں نے چھت کے تھا، میرا کوئی گھر نہیں تھا اور تجھ سے امید تھی کہ تو مجھے گھر دے گا، مجھے آرام پہنچائے گا لیکن تو نے میری کوئی خدمت نہ کی۔اس طرح خدا باتیں کر رہا ہو گا اور وہ بار بار احتجاج کرے گا کہ اے میرے مالک اے میرے خدا ! تو تو سب کو دینے والا ہے، تو نے ہی تو تن ڈھانکے ہیں، تو کب بغیر کپڑے کے تھا۔تو