ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 314
314 رہنا کہ فتح بہر حال ہمارے مقدر میں ہے اس لئے ہمیں کچھ کرنے یا کہنے کی ضرورت نہیں یہ غلط ہے۔یہ مضمون بھی اس طرز کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقدیر اپنی جگہ درست لیکن تقدیر کی طلب اپنی جگہ ضروری ہے جیسا کہ گرمی ہوتی ہے تو مون سون پہنچ جاتی ہے۔مون سون کا اٹھنا اپنی جگہ اپنے قانون کے مطابق ہے لیکن اس کو طلب کرنے کے لئے کسی خاص علاقے کی خاص گرمی کی بھی ضرورت ہے۔چنانچہ وہ گرمی اگر پوری طرح میسر نہ آئے تو مون سون تو اپنی جگہ اٹھتی ہی ہے لیکن اس علاقے پر بعض دفعہ نہیں برتی۔پس اس لحاظ سے یعنی یہ مضمون تو بعینہ صادق نہیں آتا مگر یہ ایک ملتی جلتی مثال ہے ہمیں اپنی فتح کی دعاؤں سے بھی غافل نہیں رہنا چاہیے اور یہ سمجھ کر کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے وعدے فرمائے ہیں کہ آخرین کے دور میں میں اسلام کو تمام دیگر ادیان پر غلبہ عطا فرماؤں گا اس لئے ہمیں کیا ضرورت ہے اس کے لئے گریہ و زاری کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظر اس مضمون پر سب سے زیادہ گہری تھی، اس کے باوجود آپ نے اس قدر بیقراری سے غلبہ اسلام کی دعائیں کی ہیں کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ دعائیں کرتے کرتے آپ کی جان نکل جائے گی۔چنانچہ آپ کا بہت ہی درد ناک اظہار ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ سنت قائم کر کے ہمیں بتا دیا۔انبیاء اور صلحاء اور اخیار کا یہی مقام ہے اور یہی ان کو زیب دیتا ہے کہ خدا کے وعدوں کے باوجود اس کی طلب میں اپنی جان کھونے کی کوشش کریں اور بہت ہی گریہ وزاری کے ساتھ اللہ تعالٰی سے فضل مانگتے رہیں۔پھر یہاں جو فرمایا گیا کہ آتٍ فَلا تجعلني في القومِ الظَّلِمِينَ یہاں ظالمین کا کیا معنی ہے اور في القوم المومنین سے کیا مراد ہو سکتی ہے۔یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم یہ دعا کر رہے ہوں کہ جن ظالموں کو تو نے ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن کے متعلق میں عرض کر رہا ہوں کہ ہماری آنکھوں کے سامنے دکھا دے کہ تیرے وعدے پورے ہوئے ہمیں ان میں نہ شامل فرما دے۔یہ تو ایک بالکل بے تکی اور بے جوڑ بات بن جائے گی۔پس ظالمین کے استعمال کے متعلق قرآن کریم پر نظر