ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 313
313 اظہار کے رنگ ہیں اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں کرتے۔کلتہ "خدا ہی کے ہاتھوں میں پلتے ہیں۔جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ " الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کئے گود میں تیری رہا میں مثل طفل شیر خوار پس ایک طفل شیر خوار کی طرح انبیاء کی کیفیت ہوتی ہے۔ماں باپ کی گود میں اور ہاتھوں میں کھیلتے اور انہیں سے باتیں سیکھتے ہیں اور وہی باتیں ان کو سکھائی جاتی ہیں جو سکھانے والے کو مقبول نظر ہوں، اس کو پیاری لگتی ہوں۔پس اس رنگ میں ہماری تربیت کے بھی سامان ہو گئے جن سے براہ راست خدا کا حکم نہیں ہوتا اور بعد میں۔آنے والی نسلوں پر اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ وہ باتیں جن کے ہم حق دار نہیں کہ خدا ہمیں براہ راست سکھائے اپنے پیارے انبیاء کو سکھا کر ان کا ذکر محفوظ کر کے ہمیں بھی وہ طریقے بتا دئے۔پس آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو آپ کے دشمنوں کا جو انجام دکھانا تھا وہ تو مقدر تھا۔اس کے فیصلے ہو چکے تھے مگر اللہ تعالی نے آپ کو اس رنگ میں یہ دعا سکھائی کہ گویا آپ کی طلب پر عطا ہو رہا ہے اور طلب پر عطا ہونے میں اپنی ایک لذت ہے اور پھر معا بعد بلا توقف یہ اطلاع فرما دی کہ وانا على أن تُرِيكَ مَا تَعِدُهُمْ تَغدِرُونَ کیوں نہیں میرے بندے ہم ضرور اس بات پر قادر ہیں کہ جو کچھ ہم ان کو ڈرا رہے ہیں تجھے بھی وہ دکھا دیں۔پس حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی زندگی میں جو دشمن پر کامل غلبہ عطا ہوا اور طرح طرح کے معاند آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے غلاموں کے ہاتھوں عبرت ناک شکست کھا کر اس دنیا سے اپنے انجام کو سدھارے۔یہ ساری باتیں اس دعا کے نتیجے میں تھیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے مقدر تو تھا مگر دعا کے تعلق کے ساتھ تقدیر کو باندھ دیا گیا۔اس سے ہمیں یہ حکمت بھی سمجھ آتی ہے کہ تقدیر الہی کا دعاؤں سے گہرا رابطہ ہے اور تقدیر کے بتانے میں دعا کام کرتی ہے۔پس ایک پہلو جب تک تشنہ تکمیل ہو اس وقت تک تقدیر جاری نہیں ہوتی۔پس اس خوش فہمی میں بیٹھے