ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 315 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 315

315 ڈالنی چاہئیے کہ کن کن معنوں میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ایک دعا اس سے پہلے گزری ہے جس میں حضرت یونس نے یہ عرض کی تھی کہ اے خدا! میں نے اپنی جان پر کیا اور اگر تو مجھ پر رحم نہ فرمائے گا اور میری بخشش نہ فرمائے گا تو میں ظالمین میں سے ہو جاؤں گا۔وہاں ظالمین کے معنی یہ ہیں کہ تیری بخشش پر اعتراض کرنے والا۔تیری بخشش پر تلخی محسوس کرنے والا۔تو نے گنگا روں سے جو حسن سلوک فرمایا اور نری فرمائی اور عفو سے کام لیا اس پر میرے دل میں ایک ہلکا سا میل آگیا یہ ظلم ہے تو اس دعا کے تعلق میں جب آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ اے میرے رب ہمیں ظالموں میں نہ داخل فرما دینا تو اس کا مطلب یہ تو ہر گز نہیں بن سکتا کہ ہمیں ان لوگوں میں نہ داخل فرما دیتا جن کے بد انجام دیکھنے کی ہم تمنا کر رہے ہیں بلکہ یہ مطلب ہے کہ اگر تیری تقدیر یہ ہو کہ ہم آنکھوں سے نہ دیکھیں۔اگر تیرا مہی فیصلہ ہو کہ ہماری زندگیاں ختم ہو جائیں اور یہ قوم اسی طرح دندناتی پھرتی رہے اور ظلم کرتی رہے اور ان کا بد انجام ہم اپنی آنکھوں سے نہ دیکھیں تو ہمارے دلوں پر سیکیست نازل فرمانا ہمارے دلوں پر مبر نازل فرمانا اور ہم تیری رضا پر راضی رہنے والے ہوں اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہوں نے اس سے پہلے جب تو نے ان کے دشمنوں سے بخشش کا سلوک فرمایا تو دل میں کسی قسم کی تنگی محسوس کی۔شرارتوں اور وساوس سے بچنے کی دعا پھر سورۃ المؤمنون بھی میں آیات ۹۸ اور 99 میں آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو ایک دعا سکھائی گئی۔وہ یہ ہے : - وَقُل رَّبِّ أَعُوذُ يلكَ مِن هَماتِ الشَّيييين - واعُوذُ بِكَ رَتِ آن يَعْضُرُون - کہ اے میرے بندے ! تو مجھ سے یہ سوال کر مجھ سے یہ دعا کر کہ وقُل رَّبِّ أَعُوذُ باق مِن حَمَاتِ الشَّينِي۔اے میرے رب ! میں تیرے سرکش بندوں کے وساوس اور ان کے فتنوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔واعود يك رب آن يَحْضُرُوں۔اور میں تجھ سے اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ وہ مجھ تک پہنچ سکیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے : اور تو کہہ دے اے میرے