ذوق عبادت اور آداب دُعا

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 312 of 528

ذوق عبادت اور آداب دُعا — Page 312

312 الظالمين ہے ان سب کا علاج یہ دعا ہے کہ رَبِّ انْزِلْنِي مُتَزَ لا تُبْرعًا اے میرے رب! مجھے ایسی جگہ اتار اور اس طرح مجھ سے سلوک فرما کہ میں برکتوں والی جگہ پر اترنے والا ہوں۔ایسی برکتیں پانے والا ہوں جو تیرے حضور سے عطا ہوتی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو جو دعائیں سکھائی گئیں ان میں سے ایک یہ بھی دعا ہے قُل رَبِّ إِمَّا تُرِينِي مَا يُوعَدُونَ - رَبِّ فَلَا تَجْعَلُونِ فِي الْقَوْمِ کہ تو کہہ دے اے میرے رب ! کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ تو مجھے اپنی زندگی میں ہی دکھا دے جو تو میرے مخالفوں سے وعدے کرتا ہے یعنی ان سے جو وعید کرتا ہے ان کو جو انذار فرماتا ہے کیا ہو نہیں سکتا؟ کیا ممکن نہیں التجا کا ایک رنگ ہے۔کہ میں بھی اپنی آنکھوں سے وہ دیکھ لوں۔آپ فلا تجعلون في القوم الظلمينت اور میرے رب! مجھے ظالموں میں شمار نہ فرمانا۔اس کے معا بعد خدا تعالی کی طرف سے یہ جواب ہے وا تَا عَلَى أَن تُرِيكَ مَا تَعِدُهُمْ تقدرون کہ یقیناً ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو کچھ ہم ان سے وعید کرتے ہیں تجھے بھی اس میں سے کچھ دکھا دیں۔الْقَوْمِ خود ہی دعا سکھانے اور خود ہی قبول کرنے کی حکمت اس موقعہ پر ایک یہ سوال اٹھتا ہے کہ اللہ تعالی نے خود ہی قبول کرتی ہیں، پھر خود ہی دعائیں کیوں سکھاتا ہے، اس میں کیا حکمت ہے ؟ اور یہ جو طرز مسلسل چل رہی ہے کہ اللہ تعالٰی اپنے انبیاء کو ایک طرف دعا سکھاتا ہے اور دوسری طرف اس کی قبولیت کا اعلان فرما دیتا ہے۔اس مسئلے کو سمجھنے کے لئے دراصل اپنے بچوں سے اپنے تعلقات پر نظر ڈالنی چاہیے۔وہ پیارے پیارے بچے جن کو ابھی پوری طرح خود شعور نہیں ہوتا بہت سی باتیں کرنے کا سلیقہ نہیں ہوتا۔والدین جو پہلے سے ہی کچھ دینے پر تیار بیٹھے ہوتے ہیں انہیں پہلے مانگنے کے طریقے بتاتے ہیں اور کئی طرح سے پیار کے رنگ میں ان کو کہتے ہیں کہ تم ہم سے یہ مانگو اس طرح مانگو اور پھر جیب پہلے ہی بھری ہوتی ہے۔ہاتھ مچل رہے ہوتے ہیں کہ ادھر سے وہ مانگے اور ادھر ہم اس کو عطا کر دیں تو یہ پیار کے خاص انداز ہیں۔پس انبیاء کو جو دعائیں سکھائی جاتی ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے محبت کے